فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اور افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر وزارت خارجہ کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اور افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر وزارت خارجہ کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پاک افغان کشیدگی میں اضافہ، خوست اور وزیرستان سرحد پر شدید جھڑپیں جاری

پاک افغان کشیدگی میں اضافہ، خوست اور وزیرستان سرحد پر شدید جھڑپیں جاری

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

اب مصلحت نہیں، فیصلہ کُن جواب کا وقت ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

پاکستان نے کابل کے مختلف حصوں پر بمباری شروع کر دی، آماج نیوز کا بڑا دعوی

پاکستان نے کابل کے مختلف حصوں پر بمباری شروع کر دی، آماج نیوز کا بڑا دعوی

غیر ملکی خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کابل کے مخصوص مقامات پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کاروائیوں کے حوالے سے تاحال کسی بھی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ان دعووں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔