"> آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔
آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے کیا جا رہا ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

February 27, 2026

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک افغان سرحدی کشیدگی اور جاری فوجی آپریشن “غضب للحق” کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران افغان طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، اور کارروائیاں اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہیں گی۔

کارروائی کا پس منظر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی کارروائیوں کو بنیاد بنا کر افغان طالبان رجیم نے مبینہ طور پر “سو کالڈ ایکشن” لیتے ہوئے پاک افغان بارڈر پر کشیدگی میں اضافہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحد کے 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تاہم پاک فوج نے مؤثر جواب دیتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنایا اور متعلقہ مقامات کو تباہ کر دیا۔

آپریشن کی تفصیلات

ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج مارے گئے جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں لی گئیں اور دشمن کے 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ انداز اپناتے ہوئے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں، اسلحہ ڈپو اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا جبکہ شہری آبادی کو نقصان سے بچانے کے لیے انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائیاں کی گئیں۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

پاکستانی افواج کے نقصانات

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک پاکستانی فوج کے 12 جوان وطن کے دفاع میں شہید جبکہ 27 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنے سپوتوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔

ڈرون حملوں کی کوشش ناکام

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔

افغان رجیم پر الزامات

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دوحہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم ان کے مطابق ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش اور القاعدہ جیسی تنظیمیں افغان علاقوں میں موجود ہیں اور پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افغان طالبان رجیم کو دہشتگرد تنظیموں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

عوام کے نام پیغام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کے مطابق عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

وزیر اعظم کو بریفنگ

پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے حوالے سے وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے جبکہ وزارت اطلاعات جلد مزید تفصیلات جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن جاری ہے اور اپنے اہداف کی تکمیل تک جاری رہے گا۔

خیبر پختونخوا پولیس کو خراج تحسین

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے اور قوم کو ان پر فخر ہے۔

بین الاقوامی ردعمل

بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افغان سرحدی کشیدگی کے اس عروج پر فوجی کارروائیاں خطے میں طاقت کا مظاہرہ تصور کی جا رہی ہیں، تاہم مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے کیا جا رہا ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

دیکھیے: اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے؛ خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *