افغان طالبان نے کالعدم جماعتُ الاحرار کے خلاف کارروائی اور متعدد گرفتاریوں کا دعویٰ کیا تھا مگر جماعت الاحرار کے تعزیتی اجلاس نے ان دعوؤں کی ساکھ پر سوال اٹھا دیے ہیں

December 6, 2025

یاد رہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان فورسز نے باب دوستی کو بھی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس سے یہ تاریخی علامت عارضی طور پر منہدم ہو گئی تھی۔ گزشتہ رات بھی دونوں فورسز کے درمیان اسی سرحد پر فائرنگ کا طویل تبادلہ ہوا ہے۔

December 6, 2025

آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کیلئے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کیخلاف مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔

December 6, 2025

اکبر اور راجہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اکبر سابقہ احتساب کمیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ راجہ مفرور فوجی ہیں اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے اقدامات کو بلا وجہ نشانہ بناتے رہے ہیں۔

December 6, 2025

تاہم پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا انسانی حقوق اور جمہوری عمل کے فروغ کے لیے ضروری ہے اور اسے کسی مخصوص نظریے یا ایجنڈے کے فروغ سے جوڑنا درست نہیں۔

December 6, 2025

تینتیس سال بعد بھی بابری مسجد کی شہادت صرف ایک تاریخی المیہ نہیں، بلکہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی، مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں اور عدالتی ناانصافی کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

December 6, 2025

ستائیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا

واضح رہے کہ اپوزیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو مستعفی ہوگئے
ستائیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا

آئینی ترمیم کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا، جن میں پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان بھی شامل تھے۔

November 10, 2025

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے۔

چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے خلاف کوئی ووٹ نہیں آیا۔ واضح رہے کہ اپوزیشن نے اس ترمیمی بل پر ووٹنگ کی مخالفت کی تھی اور اجلاس میں احتجاج کیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری دینے کے بعد آئینی ترمیم کا بل منظور کیا گیا۔

آئینی ترمیم کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا، جن میں پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان بھی شامل تھے۔

ترمیم کی ایوان بالا سے منظوری کے بعد اب قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری دی جائے گی، جس کے بعد مکمل آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین حکومت کی لابی میں چلے جائیں گے جب کہ ترمیم کے مخالف اراکین اپوزیشن لابی میں چلے جائیں گے اور قومی اسمبلی کے دروازوں کو بند کر دیا جائے گا۔

اس موقع پر اراکین کی تعداد گننے کے لیے دونوں لابیوں پر موجود اراکین سے دستخط کرائے جائیں گے اور اس طرح گنتی شمار کی جائے گی۔

اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی گنتی کا اعلان کریں گے اور اگر مطلوبہ 224 اراکین یا زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تو آئینی ترمیم منظور ہو جائے گی۔

اس کے بعد وزیراعظم اس پر دستخط کر کے اسے منظوری کے لیے صدر مملکت کو ارسال کر دیں گے۔ صدر مملکت آئینی ترمیم پر دستخط کردیں گے جس کے بعد باقاعدہ طور پر ان ترامیم کو آئین کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو مستعفی ہوگئے۔

دیکھیں: مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم: تمام افواج کو ایک متحد کمانڈ کے تحت لانے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

افغان طالبان نے کالعدم جماعتُ الاحرار کے خلاف کارروائی اور متعدد گرفتاریوں کا دعویٰ کیا تھا مگر جماعت الاحرار کے تعزیتی اجلاس نے ان دعوؤں کی ساکھ پر سوال اٹھا دیے ہیں

December 6, 2025

یاد رہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان فورسز نے باب دوستی کو بھی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس سے یہ تاریخی علامت عارضی طور پر منہدم ہو گئی تھی۔ گزشتہ رات بھی دونوں فورسز کے درمیان اسی سرحد پر فائرنگ کا طویل تبادلہ ہوا ہے۔

December 6, 2025

آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کیلئے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کیخلاف مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔

December 6, 2025

اکبر اور راجہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اکبر سابقہ احتساب کمیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ راجہ مفرور فوجی ہیں اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے اقدامات کو بلا وجہ نشانہ بناتے رہے ہیں۔

December 6, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *