تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

جعلی عالم کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سوشل میڈیا مہم میں خراج تحسین

تحریک طالبان پاکستان ایک جعلی عالم کی تعریف کرتے ہوئے اسلام کو غلط طور پر تشدد کو جواز دینے کے لیے استعمال کر رہی جو کہ حقیقی مذہبی علماء کی توہین کے مترادف ہے

May 29, 2025

29 مئی 2025 کو تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے ایک منظم آن لائن مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد اپنے سربراہ اور جعلی اسلامی عالم نور ولی محسود کی تعریف کرنا تھا۔ یہ مہم صبح 8 بجے ٹی ٹی پی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول @UmarMedia_TTP اور @VoiceOfShariaTTP پر شروع ہوئی، جہاں محسود کو ایک “عظیم مجاہد” اور “دینی اسکالر” کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

نور ولی محسود: ایک جعلی عالم کی حقیقت

نور ولی محسود کے پاس نہ تو کوئی مستند دینی تعلیم ہے اور نہ ہی کسی معتبر دینی ادارے سے اسناد۔ اس نے نہ دیوبند، نہ الازہر، نہ بنوری ٹاؤن، اور نہ ہی جامعہ فاروقیہ جیسے معروف مدارس سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے تمام فتوے تشدد کو فروغ دینے کے لیے گھڑے گئے ہیں، جن کا اسلامی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔ درحقیقت، یہ فتوے صرف دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

غیر ملکی فنڈنگ اور دہشت گرد پروپیگنڈا

فروری 2025 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ نور ولی محسود اور اس کا خاندان افغان طالبان سے ماہانہ 43,000 ڈالر وصول کرتا ہے۔ یہ فنڈز TTP کی دہشت گردی کی سرگرمیوں اور جعلی پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ محسود کی آن لائن مہم کا اصل مقصد اسلام کے نام پر تشدد کو فروغ دینا اور عوام میں خوف پھیلانا ہے۔

حقیقی علماء کا موقف

حقیقی علماء کرام نے ہمیشہ نور ولی محسود کے فتوؤں کو مسترد کیا ہے۔ قرآن پاک میں واضح الفاظ میں ارشاد ہے:
“جو شخص کسی بے گناہ کو قتل کرے گویا اس نے تمام انسانیت کو قتل کر دیا” (المائدہ: 32)۔
نور ولی کا تشدد اسلام نہیں، بلکہ ایک سیاسی دہشت گردی ہے جس کا مقصد معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے۔

ٹی ٹی پی کی یہ مہم درحقیقت ایک خطرناک دھوکہ ہے جو نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اس جعلی پروپیگنڈے سے باخبر رہیں اور حقیقی علماء کی رہنمائی میں اسلام کے اصل پیغام امن کو سمجھیں۔

متعلقہ مضامین

تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *