ایران-اسرائیل تنازعے سے اڈانی گروپ اور بی جے پی کی مغربی ایشیائی حکمتِ عملی خطرے میں

ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے مشرق وسطیٰ میں معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں ہیں، جو بھارت کے سیاسی اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے مشرق وسطیٰ میں معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں ہیں، جو بھارت کے سیاسی اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں

June 15, 2025

اڈانی گروپ اور نئی دہلی کی تشویش


ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر صرف تل ابیب یا تہران تک محدود نہیں رہا۔ یہ بحران اب حیفہ بندرگاہ، حیدرآباد کے ڈرون کارخانوں اور نئی دہلی کی خارجہ پالیسی تک پہنچ چکا ہے۔
بھارت کے نمایاں کاروباری ادارے اڈانی گروپ کی مشرق وسطیٰ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، خاص طور پر اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ میں، ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

حیفہ بندرگاہ خطرے میں IMEC راہداری


سال 2023 میں اڈانی گروپ نے اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ میں 1.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے 70 فیصد حصص حاصل کیے۔ یہ سرمایہ کاری صرف ایک معاشی قدم نہیں تھی بلکہ بھارت-اسرائیل شراکت داری کا سیاسی پیغام بھی تھی، جو “انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کاریڈور (IMEC)” کا حصہ تھی۔
مگر موجودہ کشیدگی کے پیش نظر IMEC منصوبے کے ساتھ ساتھ اڈانی گروپ کی اسٹریٹجک پوزیشن بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق، گروپ کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

دفاعی شراکت داری


اڈانی گروپ کا اسرائیل سے تعلق صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں۔ 2018 میں گروپ نے اسرائیلی دفاعی کمپنی “Elbit Systems” کے ساتھ مل کر حیدرآباد میں Hermes 900 ڈرونز تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا، جو اسرائیلی افواج کے زیرِ استعمال ہیں۔

یہ تعاون صرف کاروباری نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ ہندو اور صیہونیت کی ہم آہنگی، خطے میں بلوچستان اور ایران مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی ایک بڑی وجہ ہے، جس میں اڈانی گروپ بھی ایک اسٹریٹجک کڑی ہے۔

خاموش سفارت یا مالی مصلحت؟


شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں بھارت کی خاموشی، جہاں دیگر رکن ممالک نے اسرائیل پر تنقید کی، محض سفارتی نہیں بلکہ مالیاتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعظم مودی کے قریبی تصور کیے جانے والے گوتم اڈانی کے مفادات کو محفوظ رکھنا اب بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی پہلو بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڈانی گروپ کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا مطلب، سیاسی و اقتصادی دونوں محاذوں پر دباؤ ہے۔

دیکھیئے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *