متعدد بین الاقوامی و علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کےسپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو طالبان کی سینیئر قیادت کے ایک نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد انہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مختلف ذرائع ابلاغ کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ کابل اور قندھار میں طالبان کی مرکزی قیادت کے مابین عرصے سے جاری شدید اندرونی اور سیاسی اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے کچھ سينیئر رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی پالیسیوں سے نالاں تھے اور انہیں افغانستان بھر میں بڑھتی ہوئی طالبان مخالف مزاحمت کو مؤثر طریقے سے روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی پراسرار اور مسلسل خاموشی بھی طالبان کے متعدد گروہوں اور سینیئر رہنماؤں میں شدید تشویش اور تحفظات کی بنیاد بنی ہوئی تھی۔





