امریکی مڈٹرم انتخابات، ٹرمپ کو شکست، ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں کامیاب

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔
ٹرمپ کا مڈٹرم انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی شکست تسلیم کرلی۔

November 4, 2026

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس نے 241 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی 149 نشستیں حاصل کرسکی۔ ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے برتری حاصل کرلی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ان کی نشستوں کی تعداد 54 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے پاس 44 نشستیں رہ گئی ہیں۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 51 نشستیں ضروری ہیں۔

ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی

انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتیں کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتی ہیں۔

ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی شکست کی وجہ اپنا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہ ہونا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود انتخابات میں حصہ لے رہے ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔

انہوں نے شکست کھانے والے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ انہیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع

انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کو بھی درست قرار دیا اور اسے دانش مندانہ اقدام قرار دیا۔

دوسری جانب انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’’ویٹو‘‘ لکھا تھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس میں قانون سازی کی صورت میں وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باوجود ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو برسوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اپنے اقدامات پر کوئی افسوس نہیں۔

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *