امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس نے 241 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی 149 نشستیں حاصل کرسکی۔ ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے برتری حاصل کرلی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ان کی نشستوں کی تعداد 54 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے پاس 44 نشستیں رہ گئی ہیں۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 51 نشستیں ضروری ہیں۔
ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتیں کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی شکست کی وجہ اپنا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہ ہونا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود انتخابات میں حصہ لے رہے ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔
انہوں نے شکست کھانے والے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ انہیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع
انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کو بھی درست قرار دیا اور اسے دانش مندانہ اقدام قرار دیا۔
دوسری جانب انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’’ویٹو‘‘ لکھا تھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس میں قانون سازی کی صورت میں وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باوجود ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو برسوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اپنے اقدامات پر کوئی افسوس نہیں۔





