تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

ٹوکردرہ گاوں، ضلع سوات میں سائنسی آثار قدیمہ کی کھدائی جاری

ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم خیبر پختونخوا کا ٹوکردرہ، سوات میں آثار قدیمہ کی کھدائی کا منظر
ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم خیبر پختونخوا کا ٹوکردرہ، سوات میں آثار قدیمہ کی کھدائی کا منظر

سوات میں آثار قدیمہ کی کھدائی کا منظر

June 18, 2025

خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر (Directorate of Archaeology and Museums) کی جانب سے سوات کے علاقے ٹوکردرہ (Thokardara) میں سائنسی طریقے سے آثارِ قدیمہ کی کھدائی جاری ہے۔ اس منصوبے کا مقصد قدیم تہذیبوں کی باقیات کو دریافت کرنا اور انہیں محفوظ بنانا ہے تاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی اس تاریخی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ ٹوکردرہ جس کا شمار وادی سوات کے اہم تاریخی مقامات میں ہوتا ہے، ماضی میں گندھارا تہذیب کا ایک نمایاں مرکز رہا ہے۔ یہاں کی کھدائیوں سے حاصل ہونے والی اشیاء قدیم مذہبی، ثقافتی اور فنی روایات کا پتہ دیتی ہیں۔

مئی 2025 میں جاری کھدائیوں کے دوران ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والی کئی قیمتی اشیاء دریافت کیں جن میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والا ایک نہایت خوبصورت اور نایاب مجسمہ بھی شامل ہے۔ یہ مجسمہ نہ صرف فنونِ لطیفہ کا اعلیٰ نمونہ ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں بدھ مت ایک مستحکم اور بااثر مذہب کے طور پر موجود رہا ہے۔ ان دریافتوں سے اس خطے کی مذہبی ہم آہنگی، روحانی زندگی اور تہذیبی ترقی اجاگر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی دریافتیں مستقبل میں سوات کی تاریخ کام کرنے والے محققین و ماہرین کے لیے قیمتی مواد فراہم کریں گی۔

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، زاہد چانزیب نے اس دریافت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوکردرہ میں ہونے والی یہ اہم کھدائیاں نہ صرف تحقیقی حوالے سے اہم ہیں بلکہ سوات کو ایک بین الاقوامی سیاحتی و علمی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا سیاحت اور ثقافت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس طرح کی دریافتیں اس مشن کا اہم حصہ ہیں۔

محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر خیبر پختونخوا 1992 میں قائم کیا گیا تھا اور 2011 میں جب وفاقی سطح پر محکمہ آثارِ قدیمہ کو صوبوں کے حوالے کیا گیا، تب سے اس محکمے نے صوبے بھر میں آثارِ قدیمہ کے 91 مقامات اور سوات میوزیم (سیدو شریف) کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس محکمے کی کاوشوں ہی کی بدولت کئی تاریخی مقامات کو نئی زندگی ملی ہے اور سوات جیسے علاقوں میں موجود قدیم تہذیبوں کے نشانات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس وقت بھی محکمہ مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد نہ صرف ماضی کو محفوظ کرنا ہے بلکہ مستقبل کے لیے سیکھنے کے مواقع بھی پیدا کرنا ہے۔

دیکھیئے: پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے باضابطہ طور پر مون سون کنٹینجنسی پلان

متعلقہ مضامین

تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *