مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

افغانستان کا سیاسی منظرنامہ: روس کی حمایت اور خطے میں سفارتی توازن

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر روس کے فیصلے نے عالمی بحث چھیڑ دی، آئی سی سی کے وارنٹس اور پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
افغانستان کا سیاسی منظرنامہ: روس کی حمایت اور خطے میں سفارتی توازن

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر روس کے فیصلے نے عالمی بحث چھیڑ دی، آئی سی سی کے وارنٹس اور پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

July 12, 2025

روسی حمایت، افغان حکومت کے لیے سفارتی کامیابی یا خطرہ؟

کابل میں روسی سفیر کی جانب سے افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کو اپنی اسناد پیش کیے جانے کے بعد روس، طالبان کی زیر قیادت “امارتِ اسلامی افغانستان” کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ ماسکو میں افغان سفارتخانے کی حوالگی اور نئے سفیر کی تعیناتی نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی سوال کھڑا کر دیا ہے۔

افغان عبوری حکومت نے روس کے اس فیصلے کو ایک “دلیرانہ قدم” قرار دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام روس اور مغرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وسیع جغرافیائی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا اور افغانستان، خاص طور پر یوکرین جنگ کے باعث یورپی ممالک کی ماسکو سے وابستگی میں کمی کے بعد، روسی توانائی کے لیے نئی ممکنہ منڈی بن سکتے ہیں۔

سابق ڈین اورماہر تعلیم، پروفیسر مختیار نے ایچ ٹی این سے گفتگو میں کہا:
“جنوبی ایشیا توانائی کی نئی منڈی بن سکتا ہے اور افغانستان اس کے لیے ایک پل کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔”

کاسا 1000 جیسے منصوبے اور ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ اس صورت میں خطے کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔

ادھر چین نے بھی افغان سفیر کی اسناد قبول کر لی ہیں اور ایران سے نکالے گئے افغان پناہ گزینوں کو انسانی امداد فراہم کی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل سفارتی تعلقات کا قیام نہیں ہے مگر افغانستان کے ساتھ عملی تعاون ظاہر کرتا ہے۔

آئی سی سی کے وارنٹس کے بعد عالمی دباؤ میں اضافہ

دوسری جانب، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق طالبان کی پالیسیاں خواتین کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار رائے، مذہبی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہیں۔ طالبان حکومت نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا:
“امارت اسلامی نے اسلامی شریعت کے تحت بے مثال عدل قائم کیا ہے، آئی سی سی کے الزامات محض سیاسی پراپیگنڈہ ہیں۔”

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے اداروں نے اس اقدام کو اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم افغانستان میں آئی سی سی کے اختیار کی عدم موجودگی کے باعث ان وارنٹس کے سفارتی اثرات محدود رہ جائیں گے۔

ایچ ٹی این سے گفتگو میں ایک سینئر افغان صحافی نے کہا:
“امارت اسلامی کی خواتین سے متعلق پالیسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ بچیوں کے اسکول بند، کام پر پابندیاں اور سماجی مشکلات سنگین ہیں۔”

پاکستان کا مؤقف اور علاقائی کردار

ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر آصف افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان پر طالبان کی موثر گرفت ہے اور عالمی برادری کو ان سے حقیقت پسندانہ انداز میں رابطہ رکھنا ہوگا۔

سینئر صحافی پیر ولایت شاہ نے ایچ ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا:
“پاکستان نے ابھی افغانستان کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا، لیکن دنیا کو طالبان حکومت کے ساتھ عملی روابط استوار رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان رابطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔”

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں سیکیورٹی، تجارت، اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان نے سرحد پار دہشتگردی، خصوصاً ٹی ٹی پی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا۔

روس کا یہ اقدام نئی سفارتی راہیں کھولتا ہے، لیکن عالمی اتفاقِ رائے کی ضرورت بھی دوچند ہو گئی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں افغانستان کو لے کر تقسیم ہو گئیں، تو خطہ مزید غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔

تاہم مشترکہ مقاصد، سنجیدہ سفارتکاری اور شمولیتی مکالمے کے ذریعے ایک پرامن، مربوط جنوبی ایشیا کی تشکیل ممکن ہے۔ روسی فیصلہ محض ایک موقع نہیں بلکہ خطے کے لیے فیصلہ کن موڑ بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *