نئی دہلی: بھارتی سابق فوجی اور تجزیہ کار میجر (ر) گورو آریا کے لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی حمایت میں دیے گئے انتہائی متنازع بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ ایرانی قونصل خانے نے بھی اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مذمت کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔
Gaurav Arya says: "We are the real brother of Israel and we want Israel to drop 100 bombs on Lebanon and 50 bombs on Gaza."
— Iran Consulate – Hyderabad (@IraninHyderabad) April 15, 2026
🔹@majorgauravarya brotherhood with a genocidal and occupying regime has no credibility.
It’s the classic gaslighting circular argument: Israel invades →… pic.twitter.com/oI4bpNq2uU
یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا، انسانی حقوق کے حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ شہری آبادی کے خلاف تشدد کو بھی جواز فراہم کرتے ہیں۔
ایرانی قونصل خانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات قابل قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیا اس طرح کی زبان عالمی سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال اور حملوں کی حمایت خطے میں امن کے قیام کے بجائے مزید عدم استحکام کا باعث بنتی ہے، اور ایسے بیانات صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی سفارتخانے نے بھی وضاحت کی ہے کہ گورو آریا ایک نجی شہری ہیں اور ان کے خیالات بھارت کی سرکاری پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے، جبکہ ان کے لہجے کو نامناسب قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور لبنان و غزہ میں جاری تنازعات عالمی سطح پر حساس موضوع بنے ہوئے ہیں۔
دیکھئیے:سندھ طاس معاہدے کی معطلی: پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت اور خوراکی نظام کو درپیش بڑھتے خطرات