"> بھارتی سابق فوجی کے اشتعال انگیز بیان اور اسرائیلی حمایت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل، ایرانی قونصل خانے کی مذمت - HTN Urdu بھارتی سابق فوجی کے اشتعال انگیز بیان اور اسرائیلی حمایت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل، ایرانی قونصل خانے کی مذمت
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارتی سابق فوجی کے اشتعال انگیز بیان اور اسرائیلی حمایت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل، ایرانی قونصل خانے کی مذمت

گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔
گورو آریا کی شامت

ایرانی قونصل خانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات قابل قبول نہیں۔

April 15, 2026

نئی دہلی: بھارتی سابق فوجی اور تجزیہ کار میجر (ر) گورو آریا کے لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی حمایت میں دیے گئے انتہائی متنازع بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ ایرانی قونصل خانے نے بھی اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مذمت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔

یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا، انسانی حقوق کے حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ شہری آبادی کے خلاف تشدد کو بھی جواز فراہم کرتے ہیں۔

ایرانی قونصل خانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات قابل قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیا اس طرح کی زبان عالمی سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔

ایرانی حکام نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال اور حملوں کی حمایت خطے میں امن کے قیام کے بجائے مزید عدم استحکام کا باعث بنتی ہے، اور ایسے بیانات صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی سفارتخانے نے بھی وضاحت کی ہے کہ گورو آریا ایک نجی شہری ہیں اور ان کے خیالات بھارت کی سرکاری پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے، جبکہ ان کے لہجے کو نامناسب قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور لبنان و غزہ میں جاری تنازعات عالمی سطح پر حساس موضوع بنے ہوئے ہیں۔

دیکھئیے:سندھ طاس معاہدے کی معطلی: پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت اور خوراکی نظام کو درپیش بڑھتے خطرات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *