اسلام آباد: روسی سفارتکار اور سیاسی ماہر انور عظیموف نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن کے قیام اور تنازعات کے حل میں ایک مؤثر اور اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔
روسی ادارے ایم جی آئی ایم او یونیورسٹی سے وابستہ انور عظیموف کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ریاست کے طور پر علاقائی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
💬 Russian diplomat and political scientist Anvar Azimov: “One cannot overlook the growing importance of Islamabad’s peacekeeping and mediation role in strengthening regional security. (…) Pakistan has proven itself to be a significant and effective player in resolving external… pic.twitter.com/ypj4SSAi2N
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) April 15, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے باعث 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکن ہو سکے، جو اپنی نوعیت کا ایک اہم سفارتی اقدام تھا۔
روسی ماہر کے مطابق پاکستان کے امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیے اور ایران کے ساتھ متوازن تعلقات نے اسے ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے تنازع کے دوران غیر جانبدار رہتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
انور عظیموف نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور مستقبل میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عالمی مسائل کے حل میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے جو براہ راست اس کے مفادات سے وابستہ نہیں ہیں، جس سے اس کی سفارتی اہمیت اور ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد سفارتی اقدامات کیے ہیں، جبکہ روس سمیت دیگر عالمی طاقتیں بھی خطے میں استحکام کے لیے کوششوں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات اور بھارت