واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس عمل میں ایک مؤثر اور واحد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ اگلا مذاکراتی دور بھی ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد ممالک نے اس عمل میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی، تاہم “یہ مذاکرات اس وقت صرف پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھ رہے ہیں”۔
White House confirms that the next round of talks of US-Iran is to be in Islamabad pic.twitter.com/UuISCWLCza
— Anas Mallick (@AnasMallick) April 15, 2026
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو اہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ رابطے کا عمل پاکستان کے ذریعے جاری رکھا جائے، اور اسی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری اور نتیجہ خیز ہیں۔
کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کی کوئی درخواست کی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے، جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہازوں کے خلاف کی گئی ہے، جبکہ چینی صدر نے امریکی صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں متوقع ہے، جس کے لیے سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ایران کی نمائندگی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ابھی تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم رابطے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا، تاہم امریکی حکام کے مطابق اس میں مثبت پیشرفت ضرور ہوئی۔
دیکھئیے:پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی سطح پر تسلیم: روسی ماہر نے اسلام آباد کو مؤثر عالمی ثالث قرار دے دیا