پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہر محاذ پر جرات مندانہ اور باوقار مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کا بغیر کسی ابہام کے منہ توڑ جواب دیا گیا، جس نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

May 5, 2026

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بدھ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کے دورہ جالندھر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

May 5, 2026

اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں

May 5, 2026

یہ نغمہ اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان “بنیانٌ مرصوص” کی طرح اپنے شہداء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

May 5, 2026

انگلینڈ کی ٹیم دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقا کا پانچواں، پاکستان کا چھٹا اور ویسٹ انڈیز کا ساتواں نمبر بھی برقرار ہے۔

May 5, 2026

افغان شہریوں کے بارے میں جرمنی کی پالیسی اور پاکستان سے موازنہ

جرمنی حکومت کا اپنے فیصلے نظرِ ثانی کرنا دراصل قانونی و سفارتی دباؤ کا نتیجہ ہے
جرمنی حکومت کا اپنے فیصلے نظرِ ثانی کرنا دراصل قانونی و سفارتی دباؤ کا نتیجہ ہے

جرمنی کے فیصلہ کی خبر سن کر پاکستان میں منتظر افغان شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے

August 27, 2025

جرمن حکومت نے اپنی سابقہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے افغان باشندوں کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دے دی
جرمنی کی مرتب کردہ پالیسی کے تحت وہ کمزور افغان شہری جو پاکستان میں رہائش پذیر تھے انکو دوبارہ داخلے کی اجازت دے دی گٗی ہے۔

جرمن حکومت کی جانب سے منگل کے روز یہ بیان جاری کیا گیا کہ جرمنی ان افغان شہریوں کے داخلے پرعائد پابندی ختم کرنے جارہا ہے جنہیں جرمنی حکومت نے رہاٗش دینے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کا اپنے فیصلے کو واپس لینا دراصل قانونی و سفارتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2,000 افغان شہری ہیں جنہیں مختلف خطرات کے پیشِ نظر جرمنی منتقلی کی منظوری دی گئی تھی۔ افغان شہریوں گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان میں منتظر تھے کہ کب جرمنی حکومت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ کیونکہ چند ماہ قبل جرمنی حکام نے سابقہ فیصلے کو واپس لیتے ہوئے بجائے کاروائی کرنے کے یا حکمت عملی تیار کرنے بلا وجہ معاملے کو طول دے رہی تھی۔


وہ افغان شہری جو جرمنی حکومت کے فیصلے کے انتظار میں شب و روز پاکستان میں بسر کررہے ہیں، جرمنی حکومت کے فیصلہ کی خبر سن کر ان شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی حکومت کے حالیہ فیصلہ کو کچھ ماہرین پاکستان کی افغان مہاجرین کے متعلق مرتب کردہ پالیسی پر قیاس کررہے ہیں کہ پاکستان نے بھی افغان مہاجرین کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن انکو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستِ پاکستان نے عالمی قوانین کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تدریجی بنیادوں پر افغان شہریوں کو واپس اپنے وطن بھیج رہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی پالیسی میں واضح فرق ہے پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی و بدامنی کا شکار رہنے کے باوجود افغان شہریوں کو پرامن اور با وقار طریقے سے واپس بھیجنا دراصل پاکستان کی کامیاب سفارتکاری پر استدلال کرتی ہے۔


جبکہ دوسری جانب جرمنی سمیت مغربی ممالک میں افغان شہریوں کی تاخیر کے باعث بحیثیتِ منتظم کے ریاستِ پاکستان پر بوجھ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لہذا عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے تمام ممالک کو چاہیے کہ افغان شہریوں کے داخلے میں تاخیری حربے ختم کرتے ہوئے انہیں اپنے ہاں سکونت اختیار کرنے دیں۔

متعلقہ مضامین

پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہر محاذ پر جرات مندانہ اور باوقار مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کا بغیر کسی ابہام کے منہ توڑ جواب دیا گیا، جس نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

May 5, 2026

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بدھ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کے دورہ جالندھر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

May 5, 2026

اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *