فیض آباد: افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان اور مقامی باغی گروپ کے درمیان تصادم کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جہاں طالبان کے ایک مقامی نان پشتون کمانڈر نے تنظیم سے منحرف ہو کر بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی پیچیدہ اور طالبان رژیم کے لیے ایک نیا اور سنگین سیکیورٹی چیلنج بن کر ابھری ہے۔
اطلاعات کے مطابق، درہ خستک کے علاقے سے تعلق رکھنے والے کمانڈر زابط کریم نے 30 افراد کے مسلح گروپ کے ہمراہ بغاوت کر کے پہاڑوں کا رخ کر لیا ہے۔ شہرستان جرم کے علاقے میں تعینات طالبان کا دستہ اس بغاوت کا حصہ بنا ہے۔ باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں، جو کہ کھلم کھلا قبضہ ہے۔
اس صورتحال کے بعد، طالبان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صوبائی مرکز اور ولسوالی بارک سے اضافی فوجی دستے اس علاقے کی طرف روانہ کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق طالبان نے درہ خستک کی پہاڑیوں میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بھی فوجی دستے اتارے ہیں۔ اگرچہ تاحال کسی براہ راست جھڑپ کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم علاقے میں جلد ہی بھاری لڑائی چھڑنے کا قوی امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مسلح گروپ کو دیگر مقامی ناراض کمانڈروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
بدخشاں کی جغرافیائی صورتحال سے آگاہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بدخشانی مسلح افراد اپنے مفاد، تاریخ اور شناخت کے لیے متحد ہو جائیں، تو طالبان کے لیے اس مشکل خطے میں قدم جمانا مشکل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی مقامی کمانڈر عبدالرحمان عمار نے اسی علاقے میں بغاوت کی تھی، تاہم انہیں دھوکے سے بلا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب زابط کریم کی بغاوت کے بعد علاقے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
دیکھئیے:خوارج کے ڈرون حملے انسانیت پر وار ہیں: معصوم شہریوں کے قتل پر علامہ طاہر اشرفی کی شدید مذمت