اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے علاقائی رابطوں اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے کثیر الجہتی ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس میں تاجکستان اور ازبکستان کو بھی شامل کیا جائے گا۔
افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق کے مطابق، انہوں نے افغانستان-وسطی ایشیا بین الحکومت کوآرڈینیشن سیل کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں علاقائی رابطوں اور تجارت کو بڑھانے کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوآرڈینیشن کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔
خصوصی ایلچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں بتایا کہ اس اقدام کا بنیادی ہدف چار ملکی ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں توسیع کرنا ہے، جس میں پہلے ہی پاکستان، چین، قازقستان اور کرغزستان شامل ہیں۔ اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس کے شرکاء نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان فضائی رابطوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تاجک تاجروں کے لیے ویزا کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور سرحدی بندشوں کے باعث متبادل لاجسٹک راستے تلاش کیے ہیں تاکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دی جا سکے۔ گزشتہ ماہ کرغزستان سے خنجراب پاس اور سوست ڈرائی پورٹ کے راستے ایک تجارتی کھیپ کامیابی سے کراچی پہنچی تھی، جس سے خطے کے لیے تجارت کا ایک نیا کوریڈور کھل گیا ہے۔ پاکستان اپنی بندرگاہوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر رہا ہے تاکہ خطے میں تجارتی سامان کی نقل و حمل کو تیز اور محفوظ بنایا جا سکے۔
دیکھئیے:پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی و صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق