پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

مفتی کفایت اللہ کا متنازعہ مؤقف اور پشتون حقوق کا بیانیہ

ماہرین کے مطابق یہ مؤقف نہ صرف ریاستی قربانیوں کی نفی ہے بلکہ شہداء کے خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی بھی ہے
مفتی کفایت اللہ کا متنازعہ مؤقف اور پشتون حقوق کا بیانیہ

انتہا پسند پروپیگنڈا نہ صرف پشتون عوام کو بدنام کرتا ہے بلکہ دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔

August 30, 2025

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا بیانیہ دہراتے ہوئے دہشت گردوں کو “شہید” قرار دیا اور دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کیلئے توہین آمیز زبان استعمال کی۔ ماہرین کے مطابق یہ مؤقف نہ صرف ریاستی قربانیوں کی نفی ہے بلکہ شہداء کے خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی بھی ہے۔

پشتون جرگہ اور پی ٹی ایم کی ریاست مخالف روش

پشتون نیشنل جرگہ نے انہیں اس بیان کے باوجود پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بعد ازاں اس بیانیے کو ذاتی رائے کہہ کر معذرت کی کوشش کی گئی، جو دراصل انتہا پسند سوچ کی پردہ پوشی ہے۔ اسی طرح پی ٹی ایم نے بھی کفایت اللہ کی حمایت کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پشتون حقوق کے محافظ قرار دینے کی کوشش کی، جو ریاست اور عوام کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

علماء کا واضح فتویٰ

واضح رہے کہ پاکستان بھر کے 1,800 سے زائد جید علماء نے “پیغام پاکستان” کے تحت فتویٰ دیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح جتھے غیر اسلامی ہیں، اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا صریح حرام ہے۔ یہ فتویٰ انتہا پسندانہ بیانیے کے خلاف ایک مضبوط مذہبی اور قانونی دیوار ہے۔

حقیقی پشتون حقوق

حقیقی پشتون حقوق امن، تعلیم اور ترقی سے جڑے ہیں، جو صرف آئین پاکستان کے تحت ہی ممکن ہیں۔ انتہا پسند پروپیگنڈا نہ صرف پشتون عوام کو بدنام کرتا ہے بلکہ دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ ریاست کی قربانیوں اور عوامی امنگوں کا تقاضا ہے کہ پشتون قیادت دہشت گردی کے بجائے ترقی و امن کا بیانیہ اپنائے۔

دیکھیں: ٹی ٹی پی کی معاونت کا الزام: افغان حکومت نے اپنے اہم کمانڈر کو گرفتار کر لیا

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *