وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس کی درخواست پر آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر غور ہو گا

March 2, 2026

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

March 2, 2026

افغانستان کے صوبہ قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 2, 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کا جلال آباد میں ڈرون اور گولہ بارود کے ڈپو پر کامیاب حملہ؛ افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دے دیا گیا

March 2, 2026

ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کیخلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوتے تھے بہت جلد دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے-

March 2, 2026

قطر کے بعد ترکی؟ اسرائیلی میڈیا نے ترکی کو اسرائیل کا اگلا مبینہ نشانہ قرار دے دیا

اسرائیلی مین اسٹریم کالم نگار، بشمول وہ حلقے جو نیتن یاہو کے مؤقف کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں، نے اپنی تجزیاتی تحریروں میں ترکی کو بطور ’جغرافیائی و سیاسی خطرہ‘ نمایاں کیا ہے۔
قطر کے بعد ترکی؟ اسرائیلی میڈیا نے ترکی کو اسرائیل کا اگلا مبینہ نشانہ قرار دے دیا

ماہرین کا مشورہ یہ ہے کہ ردِعمل میں ذمہ دارانہ سفارتی حکمتِ عملی، علاقائی ڈپلومیسی اور اقوامِ متحدہ یا دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اعتماد بحال رکھنے کی کوشش کی جائے۔

September 13, 2025

قطر میں حماس کی قیادت کے خلاف ناکام فضائی حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا میں طوفانِ بحث چھڑ گیا ہے اور اب ترکی کو ممکنہ اگلے ہدف قرار دینے کی بحث زور پکڑ رہی ہیں۔ بڑے اسرائيلی اخبارات اور تجزیاتی کالم نگار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ترکی کی حالیہ خارجہ پالیسی، مسلم دنیا میں اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی رسائی اور فلسطین کی کھل کر حمایت، تل ابیب کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔

اسرائیلی مین اسٹریم کالم نگار، بشمول وہ حلقے جو نیتن یاہو کے مؤقف کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں، نے اپنی تجزیاتی تحریروں میں ترکی کو بطور ’جغرافیائی و سیاسی خطرہ‘ نمایاں کیا ہے۔ بعض کالموں میں ترکی کو نشانہ بنانے کو “اسٹریٹجک ضرورت” کہا گیا جبکہ اس بحث میں یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ترکی نے حالیہ برسوں میں علاقائی مفادات کے لیے اپنی سفارتکاری اور عسکری روابط کو مضبوط کیا ہے۔

پاکستان — مین اسٹریم میں کم، سوشل میڈیا پر زیادہ شور

دوسری جانب اسرائیلی مین اسٹریم میڈیا ابھی تک پاکستان کو براہِ راست ہدف کے طور پر زیرِ بحث نہیں لا رہا۔ البتہ چند آن لائن مضامین اور تجزیات میں پاکستان کے بارے میں منفی بیانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ پاکستانی عوام میں اسرائیل و یہودیت کے خلاف مزاج غالب ہے۔

تاہم اسرائیلی سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف سخت رویّہ زیادہ واضح ہے؛ کچھ سرگرم اکاؤنٹس اور ٹرینڈنگ پوسٹس میں پاکستان کو “سبق سکھانے” تک جیسی باتیں کہی جا رہی ہیں اور انتہائی کنارے پر بعض صارفین نے یہاں تک لکھا کہ پاکستان کے عسکری یا ایٹمی اہداف کو نشانہ بنانے کی سوچ کو تقویت دی جائے۔

ماہرین اس آن لائن ہائپ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی بحث کو ریاستی پالیسی یا حقیقی حملے سے یکسر نہیں جوڑا جا سکتا، مگر یہ احساس ضرور بیدار کرتی ہے کہ کس حد تک عوامی رائے اور افواہوں سے سفارتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

کیا اسرائیل واقعی ان ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے؟

سیکیورٹی تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ ریاستی سطح پر کسی بھی اقدام کے لیے وسیع سیاسی، عسکری و سفارتی امور درکار ہوتے ہیں اور آن لائن بیانات خود بخود ریاستی پالیسی نہیں بنتے۔ تاہم دوحہ حملے کے بعد جو میڈیا و سوشل میڈیا ماحول بنا ہے، وہ خطے کی سیاسی حساسیت اور ممکنہ سفارتی کشیدگی کا اشارہ ضرور دیتا ہے۔

نتیجہ: خطرہ یا محض پراپیگنڈا؟

ماہرین کا مشورہ یہ ہے کہ ردِعمل میں ذمہ دارانہ سفارتی حکمتِ عملی، علاقائی ڈپلومیسی اور اقوامِ متحدہ یا دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اعتماد بحال رکھنے کی کوشش کی جائے۔ یہ واضح ہے کہ قطر پر حملے کے بعد ترکی اور پاکستان جیسی ریاستوں کے خلاف جذباتی بیانیے آن لائن بھڑک رہے ہیں، مگر حقیقی جغرافیائی فیصلے طویل المعیاد سفارتی و سکیورٹی متغیروں پر مبنی ہوتے ہیں۔

دیکھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیل کو دنیا کے امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا

متعلقہ مضامین

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس کی درخواست پر آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر غور ہو گا

March 2, 2026

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

March 2, 2026

افغانستان کے صوبہ قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *