امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جو امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔

February 1, 2026

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔

February 1, 2026

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

February 1, 2026

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

February 1, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔

February 1, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ ایک حساس سرحدی علاقے میں ہوئی، تاہم تاحال نہ طالبان حکام اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔

February 1, 2026

اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 30 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے اورکزئی سانحے میں ملوث 30 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا
آئی ایس پی آر کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے اورکزئی سانحے میں ملوث 30 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا

اورکزئی میں مزید آپریشن بھی جاری ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کا صفایا کر کے پاکستان میں امن و امان ممکن ہوسکے

October 10, 2025

سیکیورٹی فورسز نے 7 اکتوبر کو پیش آنے والے سانحے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 30 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر کے حملے میں میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت سمت 11 ملکی محافظوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے اورکزئی سانحے میں ملوث 30 دہشت گردوں کو انجام تک پہنچا دیا۔

آئی ایس پی آر نے آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیاب آپریشن دراصل اورکزئی حملے کا انتقام تھا جس میں گیارہ ملکی محافظوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے۔
اآئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردانہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اورکزئی میں مزید آپریشن بھی جاری ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کا صفایا کر کے پاکستان میں امن و امان ممکن ہوسکے۔

دیکھیں: سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج جہنم واصل

متعلقہ مضامین

امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جو امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔

February 1, 2026

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔

February 1, 2026

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

February 1, 2026

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

February 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *