نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ تسلیم کرتی ہے؛ آئی ایس پی آر

سفارتی حلقوں کا مؤقف یہ رہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویئے کی ضرورت ہے، جبکہ جارحانہ بیانات سے اجتناب لازمی سمجھا جائے گا۔
دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ تسلیم کرتی ہے؛ آئی ایس پی آر

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ معرکہِ حق کے بعد بھارت کی جانب سے شکست کا اعتراف نظر آتا ہے، اس لیے اب وہ تاریخ کو اپنے مفاد کے مطابق تحریف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

October 15, 2025

پاکستان نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کو یکسر بے بنیاد، اشتعال انگیز اور انتخابی دلفریب بیانیہ قرار دیتے ہوئے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ یہ بیانات اقتدار کی سیاست کے تحت دہرائی جانے والی افواہ سازی کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد عوام اور بین الاقوامی برادری میں غلط تاثر پھیلانا ہے۔

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ جو بیانیے بھارتی فوجی قیادت حال ہی میں عام کر رہی ہے، وہ بارہا دہرائے جانے والے من گھڑت بیانات کی تازہ مثال ہیں۔ ایک ایٹمی قوت کی فوجی قیادت کا اس قسم کا اشتعال انگیز رویہ انتہائی پریشانی کا سبب ہے، کیونکہ غیر ضروری جارحانہ بیانات خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایسی بے بنیاد جارحیت عوامی جذبات کو بھڑکا سکتی ہے اور جنگی جوش و جذبے کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے، جس کے دور رس نتائج خطے کے امن کے لیے مضر ہوں گے۔ اس تناظر میں پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے بار بار کہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور قوم کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ معرکہِ حق کے بعد بھارت کی جانب سے شکست کا اعتراف نظر آتا ہے، اس لیے اب وہ تاریخ کو اپنے مفاد کے مطابق تحریف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عالمی برادری اب بھارت کی سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کے کردار کو سمجھ رہی ہے۔

پاکستانی حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی نوعیت کی جارحیت کا جواب فوری، مؤثر اور مضبوط انداز میں دیا جائے گا۔ ہر اقدام کا حساب کتاب تاریخ میں رقم ہوگا، اور قومی سالمیت پر کسی قسم کی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

سفارتی حلقوں کا مؤقف یہ رہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویئے کی ضرورت ہے، جبکہ جارحانہ بیانات سے اجتناب لازمی سمجھا جائے گا۔

دیکھیں: امیر خان متقی کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس: بھارت کے ساتھ تعلقات، تعلیم، تجارت اور پاکستان سے کشیدگی پر گفتگو

متعلقہ مضامین

نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *