دہلی پولیس نے 9 ملزمان کی گرفتاری کو آئی ایس آئی سے جوڑنے کا روایتی دعویٰ کیا ہے، جسے سوشل میڈیا پر مودی حکومت کی اندرونی ناکامیاں چھپانے کا فرسودہ پروپیگنڈا قرار دے کر شدید تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔

May 30, 2026

الجزیرہ کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی کی 10 سالہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔ پاکستان بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط روابط کے باعث اب خطے کا ایک ناگزیر فریق بن چکا ہے۔

May 30, 2026

درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز میں 11 خارجی ہلاک اور ایک گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں 2 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

May 30, 2026

روس نے سکیورٹی خدشات کے باعث طالبان کی جدید دفاعی نظام اور اسلحے کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ کابل کی یقین دہانیوں کے باوجود عسکری امداد سے انکار برقرار رکھا۔

May 30, 2026

افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔

May 30, 2026

سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے امریکی امداد کی معطلی پر افغان عوام کو طالبان کے جبر کے خلاف پُرامن آواز اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

May 30, 2026

استنبول مذاکرات میں غیر سنجیدگی کے پاک افغان تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان

یہ اقدام عین ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی کارروائی کا مطالبہ بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا تھا
یہ اقدام عین ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی کارروائی کا مطالبہ بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا تھا

طالبان کی انار کی تجارت ایک ظاہری سی علامت ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر خود انحصاری اور مستحکم معیشت کا تاثر دینے کے لیے کی گئی ہے

October 27, 2025

استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات کے معطل ہونے کے دوران طالبان نے 22 ٹن قندھاری انار روس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دیکھا جاٗے تو یہ اپنی معیشت و تجارت کو بہتر ظاہر کرنے کی ایک کوشش ہے نہ کہ کوئی اقتصادی و معاشی کامیابی۔
یہ اقدام عین ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی کارروائی کا مطالبہ بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا تھا۔

دیکھا جائے تو طالبان کے اس اعلان کا مقصد عالمی اور علاقائی سطح پر خود انحصاری کا تاثر دینا ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یاد رہے کہ افغانستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں 25 فیصد بُری طرح سے متاثر ہوچکی ہے جبکہ پھل برآمدات کا محض چوتھا حصہ بنتے ہیں۔ یہ بھی پاکستان کی سیکیورٹی بنیادوں پر عائد کردہ تجارتی پابندیوں کے باعث متاثر ہو رے ہیں۔ 22 ٹن انار بھیجنا ان ہزاروں ٹن پھلوں کا متبادل نہیں جو روزانہ پاکستان کے راستے برآمد ہوتے تھے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اپنے بیانات کے ذریعے اپنی ساکھ اور معیشت بحال کرنے کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔ تاہم تجارتی راستوں اور معاشی استحکام کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی متبادل راستہ پاکستان کے تجارتی راستوں اور سیکیورٹی کی ضمانتوں کا بدل نہیں بن سکتا۔

حقیقی خودمختاری تب ہی ممکن ہے جب افغانستان انتہاپسند گروہوں کے خلاف مؤثر و عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف پھل کے ٹرک شمال کی جانب بھیج کر میڈیا میں اپنے آپ کو کامیاب قرار دلوائے۔ پاکستان کا روزِ اوّل سے موقف واضح ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس کے ذیلی گروہوں کے خلاف کارروائی کے بغیر تجارت معمول پر نہیں آ سکتی۔ معاشی سہولیات اور تجارت سیکیورٹی کی یقین دہانیوں اور ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اقدامات کے بعد ہی ممکن ہے۔

طالبان کی انار کی تجارت ایک ظاہری سی علامت ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر خود انحصاری اور مستحکم معیشت کا تاثر دینے کے لیے کی گئی ہے۔ مگر جغرافیائی حقائق اور معاشی ضروریات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان کی حقیقی خودمختاری اور معاشی استحکام پاکستان کے ساتھ تعاون اور انتہاپسندی کے خاتمے کے بغیر ناممکن ہے۔ استنبول مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ سیکیورٹی اور اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آئیں، نہ کہ صرف علامتی برآمدات یا زبانی کلامی یقین دہانیاں۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی؛ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

دہلی پولیس نے 9 ملزمان کی گرفتاری کو آئی ایس آئی سے جوڑنے کا روایتی دعویٰ کیا ہے، جسے سوشل میڈیا پر مودی حکومت کی اندرونی ناکامیاں چھپانے کا فرسودہ پروپیگنڈا قرار دے کر شدید تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔

May 30, 2026

الجزیرہ کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی کی 10 سالہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔ پاکستان بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط روابط کے باعث اب خطے کا ایک ناگزیر فریق بن چکا ہے۔

May 30, 2026

درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز میں 11 خارجی ہلاک اور ایک گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں 2 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

May 30, 2026

روس نے سکیورٹی خدشات کے باعث طالبان کی جدید دفاعی نظام اور اسلحے کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ کابل کی یقین دہانیوں کے باوجود عسکری امداد سے انکار برقرار رکھا۔

May 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *