پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا، چین اور مغربی ممالک کے لیے ایک اہم گیٹ وے ہے، جس کی معدنیات اور زرعی مصنوعات کی عالمی منڈی میں بہت مانگ ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے سفارتی مشن کی اولین ترجیحات میں پاکستان کے ساتھ مضبوط عوامی روابط کا قیام اور باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ شامل ہے۔
تجارتی صلاحیت اور مشترکہ منڈی
ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کے حجم کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کی بھرپور صلاحیت اور جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں ماربل، گرینائٹ اور کوئلے جیسی معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں، جبکہ چاول اور چینی جیسی زرعی مصنوعات کی بنگلہ دیش میں بہت مانگ ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش سے انناس، انجینئرنگ مصنوعات اور تیار ملبوسات کی پاکستان برآمدات میں اضافے کے روشن امکانات ہیں۔
ٹیکسٹائل سیکٹر میں تعاون
ٹیکسٹائل انڈسٹری پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اقبال حسین نے کہا کہ پاکستان کا کپڑا اور دھاگہ بنگلہ دیش میں انتہائی مقبول ہے اور وہاں کے ریڈی میڈ گارمنٹس کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے سراہا کہ پاکستانی ماہرین بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تکنیکی مشاورت، مشینری اور سرمایہ کاری فراہم کر رہے ہیں، جو وہاں کی معیشت کے لیے اہم ہے۔
تزویراتی اہمیت اور سرمایہ کاری
انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بنگلہ دیش کی آزاد معیشت میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سارک اور ڈی-8 کے رکن ہیں، تاہم ترجیحی تجارت کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہائی کمشنر نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری قرار دیا۔
سیاحت کا فروغ
سیاحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک متنوع مناظر، تاریخ اور قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے نوجوان پاکستان کی سیاحت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور قریبی تعلقات کی بدولت اس شعبے میں خاطر خواہ ترقی متوقع ہے۔
دیکھیے: بنگلہ دیش: نئی حکومت کی ترجیحات