طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

افغان طالبان کی پابندیوں سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں

یونیسف اور یونیسکو نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے تعلیمی بحران پر فوری توجہ دے

October 30, 2025

عالمی ادارے یونیسیف اور یونیسکو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی بے وجہ پابندیوں کے باعث افغانستان میں شعبۂ تعلیم شدید بحران کا شکار ہے۔ ان اداروں نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں تعلیمی صورتحال بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی کے باعث 2.2 ملین افغان لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک تقریباً 4 ملین لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ 2019 سے 2024 کے دوران لڑکوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے میں 40 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انکے اسباب کی جانب اگر توجہ کی جائے تو افغانستان کے تعلیمی نظام کو درجِ ذیل مسائل درپیش ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد اسکولوں کی بندش، بنیادی سہولیات اور صاف پانی کی قلت۔

یونیسف اور یونیسکو نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے تعلیمی بحران پر فوری توجہ دے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران نہ صرف موجودہ نسل کی تعلیم کے لیے خطرہ ہے بلکہ افغانستان کے معاشرتی و اقتصادی مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

دیکھیں: طالبان کے اندرونی مسائل اور مالی مفادات نے استنبول مذاکرات کو لگ بھگ ناکام بنا دیا

متعلقہ مضامین

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *