بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

افغان طالبان کی پابندیوں سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں

یونیسف اور یونیسکو نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے تعلیمی بحران پر فوری توجہ دے

October 30, 2025

عالمی ادارے یونیسیف اور یونیسکو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی بے وجہ پابندیوں کے باعث افغانستان میں شعبۂ تعلیم شدید بحران کا شکار ہے۔ ان اداروں نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں تعلیمی صورتحال بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی کے باعث 2.2 ملین افغان لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک تقریباً 4 ملین لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ 2019 سے 2024 کے دوران لڑکوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے میں 40 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انکے اسباب کی جانب اگر توجہ کی جائے تو افغانستان کے تعلیمی نظام کو درجِ ذیل مسائل درپیش ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد اسکولوں کی بندش، بنیادی سہولیات اور صاف پانی کی قلت۔

یونیسف اور یونیسکو نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے تعلیمی بحران پر فوری توجہ دے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران نہ صرف موجودہ نسل کی تعلیم کے لیے خطرہ ہے بلکہ افغانستان کے معاشرتی و اقتصادی مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

دیکھیں: طالبان کے اندرونی مسائل اور مالی مفادات نے استنبول مذاکرات کو لگ بھگ ناکام بنا دیا

متعلقہ مضامین

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *