پاکستان کے اعلیٰ سطحی سکیورٹی ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری طویل مذاکراتی عمل اب اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین ایک جامع معاہدہ طے پانے کی امید ہے اور اس وقت بات چیت آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری خطے میں تناؤ کی کمی کے لیے بے تاب ہے۔
اسلام آباد کا کردار
پاکستانی ذرائع کا یہ دعویٰ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کی اہمیت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ان مذاکرات میں ایک “ناگزیر ثالث” کے طور پر اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے، جس کا اعتراف خود وائٹ ہاؤس بھی کر چکا ہے۔ اس معاہدے کے قریب پہنچنے کی خبر نے عالمی منڈیوں اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے پر مثبت اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں، کیونکہ اسے کئی دہائیوں پر محیط دشمنی کے خاتمے کی پہلی بڑی سیڑھی سمجھا جا رہا ہے۔
معاہدے کے ممکنہ خدوخال اور مستقبل
اگرچہ تاحال اس مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس میں تزویراتی سکیورٹی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور علاقائی استحکام جیسے اہم نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فریقین نے اہم اختلافی نکات پر لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی بدولت اب صرف دستخطی مراحل اور تکنیکی جزئیات باقی رہ گئی ہیں۔ اس ڈیل کی حتمی کامیابی خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد کاٹھ اور ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر اس کی شناخت کو مزید مستحکم کرے گی۔