اکستان کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے دورانِ تفتیش ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ عامر سہیل نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کیے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس فتنے کا حصہ بنا اور سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں منظم کرتا رہا۔
طالبان کی پشت پناہی
خارجی عامر سہیل کے مطابق، اس نے افغانستان کے صوبے پکتیکا میں واقع فتنہ الخوارج کے خصوصی مرکز میں دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ اس نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں موجود ان مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی اور سرپرستی حاصل ہے۔ اعترافی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں موجود داعش اور القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ان کے قریبی روابط ہیں اور انہیں افغانستان سمیت دیگر غیر ملکی ایجنسیوں، بالخصوص بھارتی ایجنسی “را” کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب: گرفتار خارجی دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات ‼️‼️
— Sec Watch PK (@KPFactCheck) April 17, 2026
عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں تربیت، مالی معاونت اور سرپرستی کے ساتھ پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث رہا.#maraş #EgitimdeŞiddet pic.twitter.com/1ADY2H7vIv
افغان شہریوں کی شمولیت
گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ اس کے زیرِ اثر کام کرنے والے 20 سے زائد خارجیوں کے گروہ میں افغان شہری بھی شامل تھے، جو سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے تھے۔ عامر سہیل نے اعتراف کیا کہ وہ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد حملوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ اسے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ روپ بدل کر پشاور میں علاج کی غرض سے داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
فتنہ الخوارج کا اصل چہرہ
عامر سہیل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ گروہ صرف مالی مفادات اور غیر ملکی فنڈنگ کے عوض پاکستان میں معصوم شہریوں اور فورسز کو نشانہ بناتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ یہ نیٹ ورک پیسے کے لیے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
دفاعی اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجی دہشت گرد کے ان انکشافات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان اس وقت عالمی دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین اور بھارتی سرپرستی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ عامر سہیل کا اعتراف پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی بھرپور توثیق ہے کہ پڑوسی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔