"> فتنہ الخوارج اور سرحد پار نیٹ ورک: پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر گونج - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فتنہ الخوارج اور سرحد پار نیٹ ورک: پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر گونج

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
امریکی جریدے 'واشنگٹن ٹائمز' نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور 'را' کے گٹھ جوڑ پر خصوصی اداریہ؛ عامر سہیل کے اعترافات اور آپریشن غضب للحق پر امریکی جریدے کے تبصرے کا تجزیاتی جائزہ

April 17, 2026

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فتنہ الخوارج کے اہم سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کی گرفتاری اور اس کے بعد سامنے آنے والے ہوشربا اعترافات نے ان خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے جو پاکستان ایک طویل عرصے سے عالمی برادری کے سامنے رکھ رہا تھا۔ عامر سہیل کا یہ اعتراف کہ اسے افغان صوبے پکتیکا میں طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں تربیت دی گئی اور اسے بھارتی ایجنسی ‘را’ کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، اس تزویراتی مثلث کو بے نقاب کرتا ہے جس کا واحد مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔ یہ انکشاف محض ایک دہشت گرد کا بیان نہیں بلکہ ان ناقابلِ تردید شواہد کی کڑی ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان اس وقت عالمی دہشت گردی کی محفوظ ترین آماجگاہ بن چکا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے ایک طرف عالمی برادری سے اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے کیے جاتے ہیں، تو دوسری جانب فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کو اپنے مراکز میں پناہ، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ عامر سہیل کے بقول، ان کے گروہ میں افغان شہریوں کی شمولیت اور سرحد پار سے منظم حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ گٹھ جوڑ نہ صرف اسلامی تعلیمات اور جہاد کے مقدس تصور کی نفی ہے بلکہ پڑوسی ملک کے ساتھ جڑے برادرانہ تعلقات میں پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ جب دہشت گرد گروہوں کو ‘را’ جیسی پاکستان دشمن ایجنسیوں سے فنڈز ملتے ہیں اور وہ افغان سرپرستی میں پاکستان میں خون بہاتے ہیں، تو اس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔

عالمی اعتراف

ان سنگین حالات میں پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا ‘آپریشن غضب للحق’ ایک ناگزیر دفاعی ضرورت بن کر ابھرا ہے۔ امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ کی حالیہ رپورٹ اس بات کی مہرِ تصدیق ہے کہ پاکستان، افغانستان میں موجود ان دہشت گرد ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔ عالمی جریدے کا یہ اعتراف کہ پاکستان کی کاروائیوں میں سویلین آبادی کا نقصان نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی برتری کا ثبوت ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وہ کسی ‘رجیم چینج’ کے بجائے صرف اپنی سرزمین کے تحفظ اور علاقائی استحکام کا خواہاں ہے۔

سفارتی و عسکری حکمتِ عملی

پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی صرف فوجی کاروائی تک محدود نہیں، بلکہ یہ سفارت کاری، سیاسی لائحہ عمل اور اقتصادی اقدامات کا ایک جامع پیکیج ہے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے اس جامع حکمتِ عملی کی تعریف ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا موقف اب عالمی سطح پر سنا اور مانا جا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ کہنا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام ہی کریں گے، اس کی غیر مداخلتی پالیسی کا مظہر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہ کرنا اس کی تزویراتی خودمختاری کی علامت ہے۔

عامر سہیل کے انکشافات اور ‘واشنگٹن ٹائمز’ کی رپورٹ نے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی عالمی سطح پر توثیق کر دی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ، افغان سرزمین پر موجود ان دہشت گردوں کی آماجگاہوں اور ان کے بھارتی سہولت کاروں کا نوٹس لے۔ پاکستان نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور ‘آپریشن غضبِ للحق’ کے ذریعے فتنے کی سرکوبی کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔ تاہم، خطے میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب کابل کی قیادت اپنی دہری پالیسی ترک کر کے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دے اور اپنی سرزمین کو کرائے کے قاتلوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کے آلاتِ کار بننے سے روکے۔ پاکستان کا عزم مصمم ہے: فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ ہر محاذ پر جاری رہے گی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *