اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور بے اعتمادی کے ماحول میں افغانستان میں یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر افغان اپوزیشن سے رابطے کر رہا ہے اور خطے میں اپنے نئے “پراکسیز” تلاش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف بین الاقوامی ذرائع اور تبصروں نے نئی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم پاکستانی سفارتی حلقوں کے مطابق یہ تمام کہانیاں یکسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نہ افغانستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی رجیم چینج کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح ہے کہ ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار افغانستان ہی خطے کے مفاد میں ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ دورِ بداعتمادی میں اگرچہ بہت سے افغان ان باتوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کا مخلص پڑوسی رہا ہے۔ اسلام آباد کا بنیادی اور واحد مطالبہ اصولی ہے یہ کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، جو کہ بین الاقوامی قانون، پڑوسی حقوق اور خطے کے امن کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پاکستان نہ کسی تابع یا کٹھ پتلی حکومت کا خواہاں ہے اور نہ کابل کے اندرونی معاملات میں مداخلت چاہتا ہے۔ اس کی خواہش صرف اتنی ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہو جو اچھے ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند ہو اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور احترام کا ماحول قائم ہو سکے۔
سرکاری حلقوں کے مطابق پاکستان اب بھی موجودہ کابل انتظامیہ سے توقع رکھتا ہے کہ تعلقات کو تناؤ کے بجائے بات چیت اور باہمی مفاہمت کے ذریعے استوار کیا جائے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں یہ تاثر یکسر مسترد کیا جاتا ہے کہ پاکستان افغان اپوزیشن کی حمایت کر رہا ہے یا کسی نئے گروہ کو ابھارنے کی کوشش میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رپورٹس نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو بڑھانے کے مترادف ہیں۔ پاکستان کے مطابق ان افواہوں کو پھیلانے کا مقصد خطے میں بدگمانی پیدا کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بھڑکانا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغان عوام کے لیے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھا، لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، تجارت اور ٹرانزٹ کے راستے کھلے رکھے اور مشکل حالات میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ یہی رشتہ آج بھی پاکستان کو توقع دلاتا ہے کہ موجودہ افغان حکومت باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ پاکستانی حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان کا امن دراصل پاکستان کے امن سے جڑا ہوا ہے، اور اسی بنیاد پر پاکستان خطے میں عدم استحکام کے بجائے مستقل امن اور تعاون کا خواہاں ہے۔
اسلام آباد نے اعادہ کیا کہ پاکستان نہ تو کابل مخالف سرگرمیوں کا حصہ ہے اور نہ ایسے کسی منصوبے کا ارادہ رکھتا ہے۔ “تمام گردش کرتی خبریں اور پروپیگنڈا بے بنیاد ہیں،” پاکستانی سفارتی ذرائع نے واضح کیا۔ ان کے مطابق وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بارے میں شکوک کے بجائے حقیقت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھولی جا سکیں۔
دیکھیں: افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، روس نے عالمی برادری کو خبردار کردیا