پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران 17 اگست کو ختم ہونے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہو گئے ہیں۔

August 13, 2026

سوراب میں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے 18 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

August 12, 2026

بدخشان میں سونے کی کان کنی پر طالبان قیادت اور کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان شدید اختلافات کے بعد ان کے داماد کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔

August 12, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے کے لیے دہشت گردی کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں طالبان کی سرپرستی میں فتنة الخوارج اور القاعدہ سرگرم ہیں۔

August 12, 2026

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

August 12, 2026

شمالی وزیرستان میں آپریشن 11 گرج کے تحت سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 62 خوارج ہلاک، چار اہم کمانڈر بھی مارے گئے، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد۔

August 12, 2026

امریکہ، مغرب اور اسرائیل کے واقعات سے تقابل؛ عالمی توجہ سمیٹنے کیلئے بھارت نے بھی ”کاپی کیٹ” فارمولا اپنالیا

ماہرین کے مطابق بھارت کے یہ بیانیے اس وقت مزید مشکوک ہو جاتے ہیں جب دیکھا جائے کہ بھارت میں دہشت گردی کی اصل نوعیت مکمل طور پر مقامی تحریکوں پر مبنی ہے.
امریکہ، مغرب اور اسرائیل کے واقعات سے تقابل؛ عالمی توجہ سمیٹنے کیلئے بھارت نے بھی ''کاپی کیٹ'' فارمولا اپنالیا

ماہرین کے مطابق، اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بھارت سیاسی تنازعات کے حقیقی اسباب کو حل کرنے کی بجائے محض بیانیہ سازی میں مصروف رہا تو نہ صرف یہ تنازعات برقرار رہیں گے بلکہ بین الاقوامی برادری میں بھارت کی ساکھ بھی متنازع ہوتی چلی جائے گی۔

November 22, 2025

بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کو بین الاقوامی سانحات سے جوڑنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، خصوصاً ایسے میں جب بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے تل ابیب میں انڈیا-اسرائیل بزنس سمٹ کے دوران 7 اکتوبر کے حماس حملے اور بھارت میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو ایک ہی تناظر میں پیش کیا۔ اس بیان نے نہ صرف نئی دہلی کی سفارتی حکمت عملی پر سوال اٹھا دیے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی گہرا کیا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر “خود کو مسلسل مظلوم دکھانے کی میڈیاٹائزڈ کوشش” کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا اندازِ بیان اس قدر واضح ہو چکا ہے کہ اب یہ صرف مماثلت ڈھونڈنے سے کہیں آگے بڑھ کر “کاپی کیٹ اسکرپٹنگ” جیسی حکمت عملی دکھائی دیتا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ امریکہ، یورپ اور اسرائیل میں ہونے والے ہائی پروفائل دہشت گرد حملوں سے مماثلت پیدا کر کے خود کو بین الاقوامی ہمدردی، سفارتی حمایت اور سلامتی کے بیانیے میں مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا جائے۔ بھارت کے ان بیانات کے بعد یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آخر کیوں بھارت مسلسل بیرونی واقعات سے مثالیں لے کر اپنے داخلی بحرانوں کو عالمی تنازعات کے برابر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کے یہ بیانیے اس وقت مزید مشکوک ہو جاتے ہیں جب دیکھا جائے کہ بھارت میں دہشت گردی کی اصل نوعیت مکمل طور پر مقامی تحریکوں پر مبنی ہے. چاہے وہ نکسل تحریک ہو، مشرقِ شمالی ریاستوں کی علیحدگی پسند تحریکیں ہوں یا مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور عوامی مزاحمت۔ ایسے میں بیرونی واقعات سے تقابل پیدا کرنا ایک سوچی سمجھی سفارتی چال دکھائی دیتا ہے، نہ کہ کسی حقیقی عالمی خطرے کا نتیجہ۔

اس رجحان کی واضح مثال اپریل 2025 کا پہلگام حملہ تھا جسے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کھل کر 2023 کے حماس حملوں سے جوڑ دیا۔ اس تقابل کو بعد میں بھارت نے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے حق میں اپنی پالیسی کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا—حتیٰ کہ غزہ جنگ بندی کی متعدد قراردادوں سے اجتناب بھی اسی پس منظر میں کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق بھارت نے اس حملے کو مغربی دنیا کے سامنے اپنی “انسداد دہشت گردی شراکت داری” کے بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک موقع کے طور پر پیش کیا۔

بین الاقوامی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق (OHCHR) بھارت کی UAPA قانون سازی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی آئی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق بھارت “خود کو دہشت گردی کا بڑا شکار دکھانے” کے نام پر ناقدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کرتا ہے—جس کی مثال کشمیری کارکن خرم پرویز کی 2021 میں گرفتاری ہے جو صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے رہے تھے۔

پاکستان کی جانب سے بھی متعدد بار دستاویزی شواہد کے ساتھ یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ بھارت خطے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے—خصوصاً بلوچستان میں تخریب کاری کی پشت پناہی، اور پہلگام حملے کو جھوٹا جواز بنا کر پاکستان کے خلاف مئی 2025 کے فضائی تصادم کو بھڑکانا۔ پاکستان کے مطابق بھارت کے کئی دعوے عالمی سطح پر آزادانہ تصدیق سے محروم ہیں۔ مزید یہ کہ بھارت کی “مسکولر ریٹیلی ایشن” کی پالیسی، جس کے تحت دہشت گردی کو “جنگی کارروائی” کے طور پر لیا جاتا ہے، سرکاری ڈیٹا کے مطابق کسی نمایاں کمی کا باعث نہیں بنی۔

مشرقِ وسطیٰ آئی پر مبنی میڈیا جیسے کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے اسرائیلی ہوم لینڈ سکیورٹی ماڈل کو نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اسے ہتھیاروں اور نگرانی کے نظام کی بھاری خریداری کا جواز بھی بنایا—گویا حقیقی تھریٹ کی بجائے مصنوعی بیانیہ تشکیل دے کر دفاعی تعاون بڑھایا گیا ہو۔

الزامات کے ایک اور پہلو میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے “انکاؤنٹر کلنگز”—خصوصاً اتر پردیش میں—مستقل مشکوک رہتی ہیں۔ سپریم کورٹ ان میں سے 183 کیسز کی تحقیقات کا حکم دے چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ براہِ راست بڑے دہشت گرد حملوں کی “اسکرپٹنگ” کے زمرے میں نہیں آتیں، پھر بھی یہ حکومتی بیانیے میں خوف کی فضا پیدا کرنے کا ایک مسلسل ذریعہ ہیں۔

عالمی اتحادوں کی سیاست میں بھی اس بیانیے سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ بھارت-اسرائیل-امارات-امریکا پر مشتمل I2U2 گروپ—جسے بعض حلقے “مِنی کوآڈ” کہتے ہیں—مشترکہ دہشت گردی کے خطرات کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا، جس نے بھارت کو مشرقِ وسطیٰ میں مزید اسٹریٹجک رسائی فراہم کی۔

تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ بھارت کے یہ بیانیے اتفاقی نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ عالمی سطح پر مقبول حملوں کے سانحات سے مماثلت پیدا کرنا دراصل سفارتی فوائد، دفاعی سودوں اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ لیکن اندرونی محرکات—بالخصوص کشمیر کی حقیقی سیاسی اور انسانی حقوق سے جڑی محرومیاں—کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نہ صرف مسئلے کو پیچیدہ بنا رہی ہے بلکہ بھارت کی خود ساختہ “وِکٹِم نیریٹیو” پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق، اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بھارت سیاسی تنازعات کے حقیقی اسباب کو حل کرنے کی بجائے محض بیانیہ سازی میں مصروف رہا تو نہ صرف یہ تنازعات برقرار رہیں گے بلکہ بین الاقوامی برادری میں بھارت کی ساکھ بھی متنازع ہوتی چلی جائے گی۔

دیکھیں: افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، روس نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

متعلقہ مضامین

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران 17 اگست کو ختم ہونے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہو گئے ہیں۔

August 13, 2026

سوراب میں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے 18 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

August 12, 2026

بدخشان میں سونے کی کان کنی پر طالبان قیادت اور کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان شدید اختلافات کے بعد ان کے داماد کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔

August 12, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے کے لیے دہشت گردی کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں طالبان کی سرپرستی میں فتنة الخوارج اور القاعدہ سرگرم ہیں۔

August 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *