افغانستان اور بھارت کی سرزمین سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا تازہ انکشاف اس حقیقت پر ایک اور ٹھپہ ہے کہ پاکستان کے دیرینہ خدشات نہ صرف درست تھے بلکہ وقت کے ساتھ مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ایکس کے نئے فیچر نے ایسے ڈیجیٹل نشانات سامنے لائے ہیں جنہوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں اور علیحدگی پسند عناصر کا ایک بڑا حصہ افغانستان اور بھارت سے منظم طریقے سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ یہ محض چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بات نہیں بلکہ ایک مربوط نیٹ ورک ہے جو پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے، جھوٹے بیانیے پھیلانے اور شدت پسندانہ سوچ کو بڑھاوا دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے لیے کوئی نئی خبر نہیں۔ پاکستان مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار، حافظ گل بہادر گروپ اور انصار الشریعہ جیسے دہشت گرد گروہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے نہ صرف خود کو منظم کرتے ہیں بلکہ اپنے میڈیا پلیٹ فارمز بھی وہیں سے چلاتے ہیں۔ اتحاد المجاہدین پاکستان، صدائے حق اور دیگر شدت پسند گروہوں کے مرکزی اکاؤنٹس کا افغانستان سے آپریٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان انتظامیہ دوحہ معاہدے کی بنیادی شق یعنی افغان سرزمین کو کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر عمل نہیں کر رہی۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے بلکہ طالبان حکومت کی نیت اور صلاحیت دونوں پر سوال اٹھاتی ہے۔
مزید تشویشناک عنصر یہ ہے کہ چند شدت پسند نیٹ ورکس جرمنی سمیت یورپی ممالک سے بھی چل رہے ہیں، جہاں وہ عالمی سطح پر جہادی بیانیے کو ایک نئے ڈیجیٹل رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ القاعدہ سے نظریاتی و عملی روابط رکھنے والی یہ تنظیمیں روایتی جنگ کے بجائے ورچوئل میدان میں اثر اندازی بڑھا رہی ہیں۔ عالمی پلیٹ فارم پر شدت پسند مواد کی پوسٹنگ، رابطہ کاری اور بھرتی کا سلسلہ جاری ہے، اور افغانستان ان سرگرمیوں کے لیے مسلسل ایک معاشی، سیاسی اور جغرافیائی محفوظ ٹھکانہ بن رہا ہے۔
اسی کے ساتھ بھارت کے کردار کا ایک نیا اور چونکا دینے والا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔ میر یار بلوچ المعروف مزداک دلشاد جیسے نام نہ صرف علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کا بیانیہ آگے بڑھاتے رہے بلکہ بھارتی میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کا حصہ بھی بنتے رہے۔ کئی بھارتی شہریوں کی جانب سے بلوچ شناخت کے ساتھ چلائے جانے والے اکاؤنٹس کا پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا محض چند افراد کی ذاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی بیانیہ کا حصہ ہے۔
یہ بھی سامنے آیا کہ دی بلوچستان پوسٹ نامی پلیٹ فارم، جو خود کو ایک آزاد بلوچ میڈیا آؤٹ لیٹ ظاہر کرتا رہا، دہلی سے چلایا جا رہا تھا۔ اسی طرح ماہرنگ بلوچ کا اکاؤنٹ سنگاپور سے آپریٹ ہونے کا انکشاف اس نیٹ ورک کے خطے سے باہر پھیلے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ تمام شواہد مل کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کے داخلی معاملات کو نقصان پہنچانے کے لیے بیرونی قوتیں جعلی شناختوں اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال منظم طریقے سے کر رہی ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ اس کا افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں۔ ایک ہی مطالبہ ہے: افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت، چاہے وہ افغانستان کے ذریعے ہو یا بھارت کے ذریعے، خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ جہاں افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ سرحد پار دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں، وہیں بھارت کے زیر اثر چلنے والا پروپیگنڈا نیٹ ورک پاکستان کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان اپنی ذمہ داری پوری کرے اور پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی کارروائی کرے۔ اسی طرح عالمی برادری بھی اس بات کو سمجھے کہ پاکستان کے خلاف چلنے والے یہ نیٹ ورکس کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر ان جعلی بیانیوں، ڈیجیٹل مداخلتوں اور دہشت گرد پشت پناہی کا مقابلہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں اس کے اثرات مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائیں گے۔ پاکستان کے خدشات ایک بار پھر درست ثابت ہوئے ہیں اور اب وقت ہے کہ خطے کی قیادت زمینی حقائق کو تسلیم کر کے عملی اقدامات کرے۔
دیکھیں: افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی