لندن میں آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ کے دوران پاکستان کے تین طلبہ موسیٰ حراج، اسرا ر خان کاکڑ اور احمد نواز خان نے منطق، شواہد اور مدلل دلائل کے ذریعے بھارتی مؤقف کو بھرپور چیلنج کرتے ہوئے مباحثے میں واضح کامیابی حاصل کی۔ ووٹنگ میں پاکستانی ٹیم کو 106 جبکہ بھارتی جانب کو 50 ووٹ ملے۔
تقریب میں پاکستان کے بیانیے کو بھرپور پذیرائی ملی، جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
اسرار کاکڑ کی مضبوط دلیلیں، ہندوتوا پالیسیوں پر تنقید
پاکستانی اسپیکر اسرار خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسیوں، اسلاموفوبیا اور بلوچستان میں علیحدگی پسند و شدت پسند گروہوں کے ساتھ بھارتی روابط پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی 2024 رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی انتخابی مہم میں مسلمانوں کو “درانداز” اور “خطرہ” کے طور پر پیش کرنا ریاستی سطح کی نفرت انگیزی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسرار کاکڑ کی اس دلیل نے آکسفورڈ یونین کے حاضرین پر گہرا اثر چھوڑا۔
بھارتی مندوبین کی ممکنہ عدم شرکت: اندرونی اختلافات یا بیانیہ بحران؟
آکسفورڈ یونین کی انتظامیہ نے بھارتی مقررین کی عدم شرکت کی تصدیق نہیں کی، تاہم غیرسرکاری اطلاعات کے مطابق سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ناروانے اور سینئر رہنما سبرامنیم سوامی ڈیبیٹ میں شریک نہیں ہو سکے۔
بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات کے پاس آپریشن سندور سمیت مودی حکومت کی پالیسی ناکامیوں سے متعلق معلومات تھیں اور انہیں خدشہ تھا کہ آکسفورڈ جیسے بین الاقوامی فورم پر ان بیانات سے حکومت کو سفارتی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
جنرل ناروانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی “ہندتوا سوچ” کے ناقد ہیں، جبکہ سوامی بی جے پی کے اندر سے ہی مودی پالیسیوں کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کی دلیلیں مضبوط، مگر بحث کا تسلسل ضروری
اس ڈیبیٹ میں پاکستانی طلبہ نے عالمی فورمز پر یہ باور کرایا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان اور بھارت دونوں کی ذمہ داری ہے، مگر نفرت انگیز سیاست اور پراکسی جنگوں کے خاتمے کے بغیر جنوبی ایشیا میں استحکام ممکن نہیں۔
اگرچہ مباحثہ ایک تعلیمی سرگرمی تھا، مگر اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو تقویت دی جبکہ بھارتی پینل کی غیرحاضری نے نئی دہلی کے اندرونی اختلافات اور سفارتی اعتماد پر سوالات کھڑے کر دیے۔