سعودی عرب نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران تین اہم سرکاری بیانات جاری کیے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تائید کی گئی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کو فون کیا اور حالیہ صورتحال پر سعودی عرب کی جانب سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا یقین دلایا۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے حالیہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سعودی حکام نے تمام فریقین سے کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے۔ سرکاری بیان میں پاکستان کی جانب سے جاری مصالحتی کوششوں کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے اور عالمی تجارت و نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ موقف خطے میں کسی بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالنے اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کی پالیسی کا عکاس ہے۔
دیکھیے: صدر ٹرمپ کا پروجیکٹ فریڈم: آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کا اعلان