امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں کے باوجود حیران کن طور پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔ امریکی ٹی وی چینل اے بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ان حملوں کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف چند میزائل داغے تھے جن میں سے زیادہ تر کو گرا دیا گیا اور ان سے بہت ہی معمولی نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق میزائل لانچوں کے اثرات کو کم کر کے پیش کرنے کا مقصد سیز فائر کی خلاف ورزی کے معیار کو بڑھانا ہے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ جب تک میزائل حملوں سے ہونے والا نقصان محدود رہے گا، اسے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی تصور نہیں کیا جائے گا۔
Trump: ‘Iran hasn’t violated the ceasefire, they only shot a few missiles most of which were shot down, very little damage’ ABC.
— Babak Vahdad (@BabakVahdad) May 4, 2026
– By downplaying the missile launches, Trump is effectively raising the threshold of what counts as a violation: as long as the damage is limited, it…
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان کے پیچھے اصل حکمتِ عملی دباؤ کو جذب کرنا، جنگ بندی کو زندہ رکھنا اور صورتحال کو ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر کا یہ لچکدار رویہ مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی ممکنہ نئے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ یہ اطلاعات ایرانی ذرائع اور سوشل میڈیا چینلز کے حوالے سے بھی گردش کر رہی ہیں۔
دیکھیے: صدر ٹرمپ کا پروجیکٹ فریڈم: آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کا اعلان