ماہرین نے پاکستان میں تمام مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر فوری پابندی کا مطالبہ کر دیا

سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے ماہرین نے نشاندہی کی کہ بھارت، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی غیر منظور شدہ وی پی اینز کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔
ماہرین نے پاکستان میں تمام مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر فوری پابندی کا مطالبہ کر دیا

حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے سخت ریگولیشنز، بہتر مانیٹرنگ اور واضح پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

December 2, 2025

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز شہریوں کے ڈیٹا، قومی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر محفوظ وی پی اینز نہ صرف صارفین کا حساس ڈیٹا چوری کرتے ہیں بلکہ ہیکرز، اسکیمرز اور اینٹی اسٹیٹ گروہوں کو ملک کے اندر سرگرمیوں کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وفاقی حکومت کو فوری طور پر تمام مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر مکمل پابندی نافذ کرنا ہوگی، جبکہ صرف لائسنس یافتہ، سیکیورٹی ویٹڈ اور رجسٹرڈ وی پی این سروسز کو استعمال کی اجازت دی جائے۔

سائبرسیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق مفت وی پی اینز دراصل صارفین کے ڈیٹا کی تجارت کا ذریعہ بنتے ہیں اور خفیہ طور پر لاگز، براؤزنگ ہسٹری، پاس ورڈز، مالی معلومات اور صارفین کے مقام کا ڈیٹا بیرونِ ملک سرورز کو منتقل کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال قومی سائبر دفاع کے لیے شدید خطرہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے ذریعے متعدد ہیکنگ گروہ، مالیاتی فراڈ نیٹ ورکس اور بعض اینٹی اسٹیٹ عناصر پاکستان کے اندر اپنی سرگرمیاں چھپانے کے قابل ہو جاتے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔

اہم نکات اور سفارشات

  • پی ٹی اے صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ وی پی اینز کے استعمال کو قانونی قرار دے۔
  • تمام مفت اور غیر محفوظ وی پی این سروسز کو بلاک کیا جائے۔
  • غیر رجسٹرڈ وی پی اینز استعمال کرنے والوں کو جرمانہ، سروس معطلی یا تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • کاروباری اداروں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال قانونی، مالیاتی اور آپریشنل خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
  • محفوظ، قانونی وی پی اینز نہ صرف پرائیویسی کا تحفظ کرتی ہیں بلکہ قومی سیکیورٹی اور کاروباری معاملات کو بھی محفوظ بناتی ہیں۔

علاقائی تناظر

سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے ماہرین نے نشاندہی کی کہ بھارت، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی غیر منظور شدہ وی پی اینز کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں صرف منظور شدہ اور ویٹڈ وی پی اینز کے استعمال کی اجازت ملتی ہے، جس کا مقصد قومی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تحفظ ہے۔

پاکستان کے لیے ضرورتِ وقت

سیکورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان بھی اگر ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے علاقائی ممالک کی طرز پر فوری اور جامع اقدامات کرنے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق مفت وی پی اینز پر مکمل پابندی وقت کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ، قومی سلامتی اور سائبر اسپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔

حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے سخت ریگولیشنز، بہتر مانیٹرنگ اور واضح پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *