پی ایس ایل گیارہ ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے

March 17, 2026

وزارت اطلاعات کے مطابق یہ تصویر دراصل افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے ماضی میں جاری کی گئی تھی اور اسے موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا

March 17, 2026

ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔

March 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں

March 17, 2026

چین خطے کی صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ امدادی اقدامات کے ذریعے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔

March 17, 2026

اگر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تو کابل میں کھلے میدان میں 500 تابوت رکھ کر دنیا کو دکھایا جانا چاہیے تھا

March 17, 2026

دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

سگار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے
امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان (SIGAR) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے

ایس آئی جی اے آر نے کہا کہ یہ تجربہ مستقبل کی تعمیر و ترقی کی کوششوں کے لیے اہم سبق ہے اور امریکی پالیسی سازوں کو ناکامیوں کا کھلے دل سے جائزہ لینا چاہیے

December 4, 2025

امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں قیامِ امن اور استحکام کے لیے دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کی لیکن امریکی کوششیں اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہیں۔ سگار کی پورٹ کے مطابق امریکہ کا فراہم کردہ ساز و سامان اور فوجی اثاثوں میں سے بیشتر سامان طالبان کے قبضے میں ہے۔

ایس آئی جی اے آر کا کہنا ہے کہ تقسیم شدہ رقم کا 60 فیصد حصہ سیکیورٹی پروگرامز جیسے طیارے، بکتر بند گاڑیاں، ہتھیار، تربیت اور افغان فوجی دستوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ پر صرف ہوا۔ سیکیورٹی کے علاوہ اربوں ڈالر توانائی کے منصوبوں، ہوٹلوں کی تعمیر اور انسانی ہمدردی کی امداد پر خرچ کیے گئے۔ تاہم بدعنوانی، نامکمل منصوبے اور ناقص نگرانی کے باعث وسائل کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔

سگار کی رپورٹ نے واضح کیا کہ بدانتظامی اور غیر حقیقی اہداف نے امریکی معاونت پر مشتمل منصوبوں کو افغان حکومت کے خاتمے سے قبل ہی نقصان پہنچایا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان کا یہ تجربہ مستقبل کی امریکہ کی تعمیر و ترقی کی کوششوں کے لیے اہم سبق ہونا چاہیے۔ ساتھ ساتھ امریکی پالیسی ساز اداروں کر بھی کہا کہ وہ ان ناکامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور وہ حکمت عملی دوبارہ نہ اپنائیں جو دو دہائیوں کی جنگ میں غیر مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

دیکھیں: زلمے خلیل زاد کو افغان انٹیلیجنس ایجنسی نے پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے استعمال کیا؛ امر اللہ صالح

متعلقہ مضامین

پی ایس ایل گیارہ ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے

March 17, 2026

وزارت اطلاعات کے مطابق یہ تصویر دراصل افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے ماضی میں جاری کی گئی تھی اور اسے موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا

March 17, 2026

ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔

March 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں

March 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *