دوحہ فورم: افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی خطے کی اقتصادی روابط کو متاثر کر سکتی ہے؛ افغان حکام

قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
دوحہ فورم: افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی خطے کی اقتصادی روابط کو متاثر کر سکتی ہے؛ افغان حکام

دوحہ فورم میں جاری مذاکرات کے دوران علاقائی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرحد پار اقتصادی منصوبوں اور رابطہ کاری کو وسعت دے کر خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔

December 8, 2025

دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے افغان حکام نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کا ازسرِ نو آغاز ناگزیر ہے، ورنہ اس کے سنگین علاقائی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

افغان وزارتِ خارجہ کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عبدالحئی قانت نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعمیری رابطے خطے کی دیرپا استحکام اور معاشی تعاون کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا،
“ہم تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں ایسے مقام پر نہیں پہنچنا چاہیے جہاں واپسی ممکن نہ رہے، کیونکہ علاقائی انضمام سے جڑے بہت سے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔”

قانت کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے، تاہم موجودہ صورتحال مشترکہ ترقی کے عمل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا:
“تجارتی راستوں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جغرافیہ کو سیاسی بنایا جا رہا ہے، اور راہداریوں کو دباؤ ڈالنے کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پورے خطے کے انضمام کے تصور کے لیے نقصان دہ ہے۔”

قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اس کے باوجود انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بحران وقتی نوعیت کا ہے اور پاکستان–افغانستان تعلقات جلد مثبت راستے پر واپس آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان ایک خطرہ نہیں، بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطوں کا مرکز بن سکتا ہے۔

دوحہ فورم میں ازبکستان کے انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ انٹر ریجنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر الدور اریبوف نے بھی افغان تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ترقی کے لیے افغانستان کو اقتصادی دھارے میں لانا سب سے مؤثر راستہ ہے۔

“ہمیں مختلف انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی ترقی کے لیے بہترین ذریعہ اقتصادی تعاون ہے۔”
ڈاکٹر اریبوف

دوحہ فورم میں جاری مذاکرات کے دوران علاقائی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرحد پار اقتصادی منصوبوں اور رابطہ کاری کو وسعت دے کر خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔

دیکھیں: افغان طالبان نے ’’پیکی بلائنڈرز‘‘ کا اسٹائل اپنانے والوں کو گرفتار کرلیا

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *