وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔

March 3, 2026

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

March 3, 2026

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کوئٹہ پریس کانفرنس میں بلوچستان کے امن کو مذہبی اتفاقِ رائے اور مؤثر حکمرانی سے جوڑتے ہوئے ‘فتنہ الخوارج’ کے خلاف مسلح افواج کی بھرپور حمایت اور افغانستان سے مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا ہے

March 3, 2026

ایران اسرائیل تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے راستوں کی تبدیلی دنیا کو ایک نئی معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہی ہے

March 3, 2026

یر کو پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ چین کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی

March 3, 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کا سرحد پار بھرپور جواب؛ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک، ایف سی کا ایک سپاہی شہید

March 3, 2026

دوحہ فورم: افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی خطے کی اقتصادی روابط کو متاثر کر سکتی ہے؛ افغان حکام

قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
دوحہ فورم: افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی خطے کی اقتصادی روابط کو متاثر کر سکتی ہے؛ افغان حکام

دوحہ فورم میں جاری مذاکرات کے دوران علاقائی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرحد پار اقتصادی منصوبوں اور رابطہ کاری کو وسعت دے کر خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔

December 8, 2025

دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے افغان حکام نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کا ازسرِ نو آغاز ناگزیر ہے، ورنہ اس کے سنگین علاقائی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

افغان وزارتِ خارجہ کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عبدالحئی قانت نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعمیری رابطے خطے کی دیرپا استحکام اور معاشی تعاون کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا،
“ہم تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں ایسے مقام پر نہیں پہنچنا چاہیے جہاں واپسی ممکن نہ رہے، کیونکہ علاقائی انضمام سے جڑے بہت سے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔”

قانت کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے، تاہم موجودہ صورتحال مشترکہ ترقی کے عمل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا:
“تجارتی راستوں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جغرافیہ کو سیاسی بنایا جا رہا ہے، اور راہداریوں کو دباؤ ڈالنے کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پورے خطے کے انضمام کے تصور کے لیے نقصان دہ ہے۔”

قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اس کے باوجود انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بحران وقتی نوعیت کا ہے اور پاکستان–افغانستان تعلقات جلد مثبت راستے پر واپس آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان ایک خطرہ نہیں، بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطوں کا مرکز بن سکتا ہے۔

دوحہ فورم میں ازبکستان کے انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ انٹر ریجنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر الدور اریبوف نے بھی افغان تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ترقی کے لیے افغانستان کو اقتصادی دھارے میں لانا سب سے مؤثر راستہ ہے۔

“ہمیں مختلف انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی ترقی کے لیے بہترین ذریعہ اقتصادی تعاون ہے۔”
ڈاکٹر اریبوف

دوحہ فورم میں جاری مذاکرات کے دوران علاقائی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرحد پار اقتصادی منصوبوں اور رابطہ کاری کو وسعت دے کر خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔

دیکھیں: افغان طالبان نے ’’پیکی بلائنڈرز‘‘ کا اسٹائل اپنانے والوں کو گرفتار کرلیا

متعلقہ مضامین

وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔

March 3, 2026

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

March 3, 2026

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کوئٹہ پریس کانفرنس میں بلوچستان کے امن کو مذہبی اتفاقِ رائے اور مؤثر حکمرانی سے جوڑتے ہوئے ‘فتنہ الخوارج’ کے خلاف مسلح افواج کی بھرپور حمایت اور افغانستان سے مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا ہے

March 3, 2026

ایران اسرائیل تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے راستوں کی تبدیلی دنیا کو ایک نئی معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہی ہے

March 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *