شہباز شریف نے عاصم منیر کی امن کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کی قیادت کے اسلام آباد دورے کو خطے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

May 6, 2026

بی این ایم اور ڈاکٹر نسیم بلوچ پر دہرے معیار، غیر ملکی ایجنڈے اور پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کے استحصال کے سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔

May 6, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سرغنہ بشیر زیب کی جانب سے غیر ملکی ایجنڈے پر بلوچ نوجوانوں کے استحصال اور ترقیاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے حقائق منظرِ عام پر آگئے۔

May 6, 2026

اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔

May 6, 2026

ضلع خیبر کے علاقے آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران اہم کمانڈرز سمیت 5 دہشت گرد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

May 6, 2026

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

May 6, 2026

سلطان بشیر محمود؛ اختلاف سے انکار تک؟

پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو کسی ایک جماعت، دور یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ متاع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) انہی ناموں میں شامل ہیں۔ وہ محض ایک ایٹمی سائنس دان نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ان بنیاد گزاروں میں سے ہیں جن کی دہائیوں پر محیط خاموش، مسلسل اور بے مثال محنت نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
سلطان بشیر محمود؛ اختلاف سے انکار تک؟

آج جب ہم پاکستان کی ایٹمی طاقت پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طاقت کسی فرد، جماعت یا حکومت کی نہیں، بلکہ ان خاموش محسنوں کی امانت ہے جنہوں نے ذاتی شہرت، آسائش اور سلامتی کو قوم پر قربان کر دیا۔

December 10, 2025

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک نہایت افسوسناک اور فکری طور پر تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا۔ تحریکِ انصاف سے وابستگی رکھنے والے بعض کارکنوں نے پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کو محض اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ ان کے صاحبزادے اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر کے منصب پر فائز ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، اس سے انکار نہیں، مگر جب اختلاف ذاتیات میں بدل جائے اور قومی خدمات کو سیاسی وابستگیوں کی عینک سے پرکھا جانے لگے تو یہ رویہ نہ صرف ناانصافی بلکہ اجتماعی شعور کی پستی کی علامت بن جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو کسی ایک جماعت، دور یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ متاع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) انہی ناموں میں شامل ہیں۔ وہ محض ایک ایٹمی سائنس دان نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ان بنیاد گزاروں میں سے ہیں جن کی دہائیوں پر محیط خاموش، مسلسل اور بے مثال محنت نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

1940ء میں امرتسر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے قیامِ پاکستان کے بعد اس سرزمین کو اپنا مقدر بنایا۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد 1960ء کی دہائی میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن سے وابستہ ہوئے اور بہت کم عرصے میں اپنی فنی مہارت اور علمی صلاحیتوں کے باعث صفِ اول کے سائنس دانوں میں شمار ہونے لگے۔ 1974ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد جب پاکستان نے دفاعی بقا کی جنگ کا آغاز کیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں جو ٹیم ترتیب دی گئی، اس میں ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈیرہ غازی خان کے قریب یورینیم افزودگی کے منصوبے کی ابتدائی ذمہ داری انہی کے سپرد کی گئی، اور ان کی شبانہ روز محنت نے پاکستان کو وہ سنگِ میل عبور کرایا جو اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے لیے بھی آسان نہ تھا۔

1998ء میں چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے ایٹمی دھماکے محض سائنسی کامیابی نہیں تھے بلکہ یہ اس قومی عزم کا اعلان تھے جو برسوں کی قربانیوں اور خاموش محنت کا نتیجہ تھا۔ اس پس منظر میں ڈاکٹر سلطان بشیر محمود جیسے سائنس دانوں کی خدمات کو نظر انداز کرنا تاریخی ناانصافی کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا فکری اور دینی رجحان ہے۔ انہوں نے سائنس اور قرآن کے باہمی تعلق کو اپنی فکری زندگی کا محور بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلام اور سائنس میں تصادم نہیں بلکہ قرآن کائنات کے ان حقائق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس حوالے سے ان کی متعدد کتب، خصوصاً معجزۂ قرآن اور جدید سائنس، علمی حلقوں میں وسیع بحث کا باعث بنی۔ 1988ء میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کے ساتھ ہونے والا ان کا مکالمہ بھی اسی فکری تناظر میں یاد کیا جاتا ہے، جس نے معاشرے میں ایک سنجیدہ علمی بحث کو جنم دیا۔

یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کی بعض آراء اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اختلاف رائے زندہ معاشروں کی علامت ہوتا ہے اور کوئی بھی شخصیت تنقید سے بالا تر نہیں۔ مگر چند نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر کسی شخص کی پوری زندگی کی قومی خدمات کو مشکوک بنا دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی اخلاقی بلوغت۔ اختلاف کو اس مقام تک لے جانا کہ کسی کے بیٹے کے منصب یا کردار کی بنیاد پر باپ کے وقار پر کیچڑ اچھالا جائے، نہ کبھی مہذب معاشروں میں قابلِ قبول رہا ہے اور نہ ہوگا۔

نائن الیون کے بعد کے عالمی حالات میں ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کو بھی شدید آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں، امریکی دباؤ کے تحت، ان پر طالبان اور القاعدہ سے روابط جیسے الزامات عائد کیے گئے، مگر نہ کبھی کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا اور نہ ہی عدالت یا آزاد تحقیق میں یہ الزامات ثابت ہو سکے۔ بالآخر وقت نے خود فیصلہ سنا دیا اور وہ الزامات تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گئے۔

آج جب ہم پاکستان کی ایٹمی طاقت پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طاقت کسی فرد، جماعت یا حکومت کی نہیں، بلکہ ان خاموش محسنوں کی امانت ہے جنہوں نے ذاتی شہرت، آسائش اور سلامتی کو قوم پر قربان کر دیا۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود انہی سپاہیوں میں سے ایک ہیں۔

ان سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر انکار نہیں۔ ان پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر تضحیک نہیں۔ یہی وہ فکری توازن ہے جو زندہ قوموں کو زندہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود ہمارے قومی ہیرو ہیں، ہمارا فخر ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے علم، کردار اور خدمت کی روشن مثال ہیں۔

دیکھیں: زلمے خلیل زاد کو افغان انٹیلیجنس ایجنسی نے پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے استعمال کیا؛ امر اللہ صالح

متعلقہ مضامین

شہباز شریف نے عاصم منیر کی امن کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کی قیادت کے اسلام آباد دورے کو خطے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

May 6, 2026

بی این ایم اور ڈاکٹر نسیم بلوچ پر دہرے معیار، غیر ملکی ایجنڈے اور پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کے استحصال کے سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔

May 6, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سرغنہ بشیر زیب کی جانب سے غیر ملکی ایجنڈے پر بلوچ نوجوانوں کے استحصال اور ترقیاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے حقائق منظرِ عام پر آگئے۔

May 6, 2026

اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔

May 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *