مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بڑی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت امریکہ اور ایران ایک جامع ایک صفحاتی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس تاریخی معاہدے پر آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دستخط کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور تازہ ترین سفارتی اشاروں کے مطابق اس مختصر مگر انتہائی اہم معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں جنگی خطرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا اور دیرینہ تنازعات کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ اس عمل کے لیے اسلام آباد کا انتخاب پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور سفارتی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
پابندیوں کا خاتمہ
مبینہ معاہدے کے مسودے کے مطابق ایران اپنی جوہری سرگرمیوں، بالخصوص یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ ایران پر عائد کردہ سخت اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا، جس سے ایرانی معیشت کی بحالی اور عالمی منڈی تک اس کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔
علاقائی استحکام
معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے بھی فوری طور پر واگزار کر دیے جائیں گے۔ سفارتی ماہرین اس پیشرفت کو مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف عالمی توانائی کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر تناؤ میں بھی کمی واقع ہوگی۔