بلوچستان میں جاری حالیہ بد امنی اور دہشت گردی کی لہر کے پیچھے کالعدم بی ایل اے اور اس کے سرغنہ بشیر زیب کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ معتبر ذرائع اور زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم یہ قیادت آزادی کے کھوکھلے نعروں کی آڑ میں بلوچستان کے غریب اور سادہ لوح نوجوانوں کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک رہی ہے، جبکہ ان کا اپنا طرز زندگی اس نام نہاد تحریک کے بالکل برعکس ہے۔
رپورٹس کے مطابق بشیر زیب اور اس کے نیٹ ورک کی قیادت کے اپنے بچے یورپ اور امریکہ کے پرآسائش تعلیمی اداروں اور محفوظ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے غریب گھرانوں کے نوجوانوں اور حتیٰ کہ بیٹیوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے خودکش حملوں کے لیے بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تضاد اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ گروہ بلوچ حقوق کے تحفظ کے بجائے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔
سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بشیر زیب کا نیٹ ورک پاکستان دشمن ممالک سے بھاری فنڈنگ حاصل کر رہا ہے۔ یہ رقم بلوچ عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے، سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ بینکوں پر حملے، بے گناہ مزدوروں کا قتلِ عام اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی کارروائیوں کا مقصد بلوچ عوام کی ترقی کو روکنا ہے۔
آج کا شعور رکھنے والا بلوچ شہری یہ جان چکا ہے کہ مساجد اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کسی صورت حقوق کی جنگ نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان کے عوام اب بشیر زیب کی دہشت گردی کے بجائے ریاست کے ساتھ مل کر امن، تعلیم اور خوشحالی کے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔