ریاستِ پاکستان نے پُرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حساس تنصیبات پر حملے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس کا سختی سے سدباب کیا جائے گا

March 3, 2026

جون 2025 میں ایران اسرائیل جھڑپوں میں ایرانی عسکری قیادت اور شہری مراکز شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایران کی کمزور انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیت واضح ہو گئی

March 3, 2026

پاک افغان سرحد پر صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب پاکستانی طیاروں نے ننگرہار میں طالبان کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طالبان نے طورخم اور نوشکی سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں

March 3, 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس کی درخواست پر آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر غور ہو گا

March 2, 2026

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

March 2, 2026

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا کورٹ مارشل، 14 سال کی قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی

مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا کورٹ مارشل، 14 سال کی قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی

اس فیصلے کے بعد پاک فوج نے واضح کیا کہ قانونی کارروائی شفاف اور تمام قانونی اصولوں کے مطابق انجام دی گئی، اور عدلیہ کی کارروائی میں کسی قسم کی رعایت یا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

December 11, 2025

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے آج اعلان کیا ہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ مکمل ہونے کے بعد انہیں تمام الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید سخت سزا سنائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ قانونی کارروائی 12 اگست 2024 کو شروع ہوئی تھی اور تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضوں اور ضوابط کی پابندی کی۔ ملزم کو اپنی پسند کے وکلاء کے ساتھ مکمل دفاع کا حق حاصل تھا، اور انہیں عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔ ملزم کے پاس متعلقہ فورم میں اپیل کرنے کا بھی قانونی حق موجود ہے۔

مزید برآں، ملزم کی سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں کی تحقیقات علیحدہ سے جاری ہیں، اور ان معاملات میں بھی کارروائی کی جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد پاک فوج نے واضح کیا کہ قانونی کارروائی شفاف اور تمام قانونی اصولوں کے مطابق انجام دی گئی، اور عدلیہ کی کارروائی میں کسی قسم کی رعایت یا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

متعلقہ مضامین

ریاستِ پاکستان نے پُرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حساس تنصیبات پر حملے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس کا سختی سے سدباب کیا جائے گا

March 3, 2026

جون 2025 میں ایران اسرائیل جھڑپوں میں ایرانی عسکری قیادت اور شہری مراکز شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایران کی کمزور انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیت واضح ہو گئی

March 3, 2026

پاک افغان سرحد پر صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب پاکستانی طیاروں نے ننگرہار میں طالبان کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طالبان نے طورخم اور نوشکی سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں

March 3, 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *