آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر 20-25 مسلح افراد کے حملے کو پولیس کی فوری کاروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے

February 3, 2026

پاکستان نے پہلا مقامی شفافیت و احتساب انڈیکس جاری کردیا، جس کے مطابق 68٪ شہری رشوت عام سمجھتے ہیں مگر صرف 27٪ نے تجربہ کیا اور 67٪ نے بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا، جس سے تصور اور حقیقت میں واضح فرق ظاہر ہوا

February 3, 2026

قبائلی اضلاع میں تعلیم دشمن حملے اور پاکستانی عوام کا عزم

گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔
قبائلی اضلاع میں تعلیم دشمن حملے اور پاکستانی عوام کا عزم

پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کلیئر کیے، اسکول دوبارہ تعمیر کیے، کیڈٹ کالجز اور آرمی پبلک اسکول قائم کیے، اور مقامی نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس کا انتظام کیا۔

December 12, 2025

شمالی وزیرستان کے علاقے ایاز کوٹ میں سرکاری اسکول پر ہونے والا حالیہ بم دھماکہ ایک سنگین واقعہ ہے، مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری تعلیم دشمن کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ یہ حملہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر ان کے مستقبل کو تاریک کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔ اگرچہ ضربِ عضب اور خیبر جیسی کارروائیوں نے اس لہر کو کم کیا، مگر افغانستان میں پناہ گاہوں کی بدولت شدت پسند نیٹ ورکس دوبارہ منظم ہونے لگے۔

2025 میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گروہ دوبارہ پرانی حکمتِ عملی آزما رہے ہیں: قبائلی اضلاع کو غیر مستحکم کرنا اور ترقی کے عمل کو روکنا، اور اب ان کا بنیادی ہدف تعلیم ہے کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو خوف کے دائروں کو توڑ سکتی ہے۔

پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کلیئر کیے، اسکول دوبارہ تعمیر کیے، کیڈٹ کالجز اور آرمی پبلک اسکول قائم کیے، اور مقامی نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس کا انتظام کیا۔ مگر شدت پسند اسکولوں پر حملہ اس لیے کرتے ہیں کہ ریاست کی بالادستی کو کمزور کریں، عوام کو خوفزدہ کریں، اور قبائل کو سزا دیں جو دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔

ایاز کوٹ کا اسکول دھماکے سے تباہ ہوا، اور یوں 600 بچوں کا مستقبل ایک رات میں منجمد ہو گیا۔ یہ محض ایک عمارت کی تباہی نہیں، بلکہ ایک بہتر مستقبل کے لیے لگایا گیا شجر تھا، جس کی آبیاری کے لیے کئی لوگوں نے قربانی دی تھی۔ مقامی قبائل اب دشمن اور دوست کی پہچان کرنے لگے ہیں، اور اکثر ایسے واقعات کو ٹی ٹی پی یا حافظ گل بہادر گروپ سے جوڑتے ہیں۔

پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے: تعلیم دشمن حملے قبائلی اضلاع میں ترقی کے سفر کو روکنے کی وسیع عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا ایک پہلو سرحد پار موجود پناہ گاہوں سے جڑا ہے، جہاں سے یہ نیٹ ورکس منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پاکستان میں امن و استحکام کو چیلنج کرتے ہیں۔

مگر شمالی وزیرستان کے لوگ شکست تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ ہر دھماکے کے بعد وہ دوبارہ کھڑے ہوتے ہیں، دوبارہ اسکول بناتے ہیں، اور اپنے بچوں کو علم کے چراغ تھماتے ہیں۔ یہی شدت پسندوں کی اصل ناکامی ہے: وہ لوگوں کے عزم کو توڑ نہیں سکے۔

ایاز کوٹ میں ہونے والا حملہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر یہ بھی ایک مضبوط اعلان ہے کہ پاکستان میں تعلیم جاری رہے گی، چاہے دشمن کتنی ہی بار اس چراغ کو بجھانے کی کوشش کرے۔

متعلقہ مضامین

آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *