سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا اخلاقی زوال بے نقاب کر دیا ہے، جہاں بھارتی فنڈنگ کے عوض معصوم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

May 30, 2026

بلوچ خاتون نے ویڈیو بیان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے معصوموں پر ظلم کو بزدلی قرار دیا ہے اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

May 30, 2026

بھارت نے سفارتی ذمہ داریوں کی معطلی کے دوران دریائے چناب پر نئے پن بجلی منصوبے کی یکطرفہ منظوری دے دی ہے۔ اضافی سرنگوں اور ذخیرہ جاتی ڈھانچوں پر مبنی یہ توسیعی اقدام پاکستان کے آبی و زرعی تحفظ کے لیے ایک منظم تزویراتی خطرہ ہے۔

May 30, 2026

بھارتی آرمی چیف نے مئی 2025 کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر آپریشن سندور 2.0 کی دھمکی دی ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت داخلی سیاسی فائدے کے لیے خطے کا امن داؤ پر لگا رہی ہے، جبکہ پاکستان سفارتی برتری اور دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔

May 30, 2026

دہلی پولیس نے 9 ملزمان کی گرفتاری کو آئی ایس آئی سے جوڑنے کا روایتی دعویٰ کیا ہے، جسے سوشل میڈیا پر مودی حکومت کی اندرونی ناکامیاں چھپانے کا فرسودہ پروپیگنڈا قرار دے کر شدید تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔

May 30, 2026

الجزیرہ کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی کی 10 سالہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔ پاکستان بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط روابط کے باعث اب خطے کا ایک ناگزیر فریق بن چکا ہے۔

May 30, 2026

خطے میں امن کیلئے ایران کی کوشش رائیگاں؛ افغانستان کا تہران میں اہم علاقائی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار

افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکومت کو ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، تاہم کابل نے اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سرحد پار سکیورٹی خطرات، بالخصوص دہشت گردی کے پھیلاؤ، پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
خطے میں امن کیلئے ایران کی کوشش رائیگاں؛ افغانستان کا تہران میں اہم علاقائی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار

افغانستان کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت سے انکار نہ صرف بداعتمادی میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی پیدا کرتا ہے کہ علاقائی ممالک مستقبل میں افغانستان کو نظرانداز کرتے ہوئے باہمی یا کثیرالجہتی تعاون کو تیز کر دیں گے۔

December 13, 2025

افغان طالبان حکومت نے افغانستان کے استحکام اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق ایران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی علاقائی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ یہ کانفرنس آئندہ ہفتے تہران میں منعقد ہونا ہے، جس میں پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع تھی۔

افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکومت کو ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، تاہم کابل نے اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سرحد پار سکیورٹی خطرات، بالخصوص دہشت گردی کے پھیلاؤ، پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان کا اس اجلاس میں شریک نہ ہونا کابل اور علاقائی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ خطے کے ممالک اب شنگھائی تعاون تنظیم کے افغانستان رابطہ گروپ اور ماسکو فارمیٹ جیسے موجودہ پلیٹ فارمز کے ذریعے باہمی رابطے کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ افغانستان سے جڑے سکیورٹی خدشات پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسلامی امارت کا مؤقف ہے کہ وہ موجودہ علاقائی اور دوطرفہ فورمز کے ذریعے ہی بہتر روابط اور مفاہمت کو فروغ دے سکتی ہے، اور انہی ذرائع سے عملی پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ تہران اجلاس میں عدم شرکت سے کابل نے اپنے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو براہِ راست دور کرنے اور اعتماد سازی کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں افغان علما کے ایک بڑے اجتماع کی جانب سے افغانستان سے باہر عسکری سرگرمیوں کی ممانعت سے متعلق جاری کردہ فتویٰ بھی شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک داخلی مذہبی اعلان تو ہے، مگر پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو درکار ٹھوس اور قابلِ تصدیق سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کے حوالے سے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے تجویز کردہ یہ کانفرنس دراصل ہمسایہ ممالک کی بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاس تھی، جہاں سرحد پار عسکریت پسندی اور افغانستان میں سیاسی عمل کی جمود کا شکار صورتحال پر بات چیت ہونا تھی۔ اس اجلاس میں افغانستان، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چین اور روس کے خصوصی نمائندوں کی شرکت متوقع تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقائی فورمز پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ ماضی میں کابل کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی وعدے، خاص طور پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے، زمینی حقائق میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ تہران میں چین، روس، ایران، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کا اکٹھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ افغانستان کا استحکام ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

افغانستان کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت سے انکار نہ صرف بداعتمادی میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی پیدا کرتا ہے کہ علاقائی ممالک مستقبل میں افغانستان کو نظرانداز کرتے ہوئے باہمی یا کثیرالجہتی تعاون کو تیز کر دیں گے۔ اس صورتحال سے کابل کے علاقائی سکیورٹی میکنزمز میں مزید تنہا ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان کے لیے ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون کی مسلسل وکالت، مکالمے پر مبنی حل کی حمایت، اور امن و استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں میں اپنے تعمیری کردار کو اجاگر کرتا رہے، جبکہ کابل کی اجتماعی علاقائی کوششوں میں عدم شمولیت واضح تضاد کے طور پر سامنے آتی رہے۔

دیکھیں: اقوام متحدہ کی بریفنگ: افغانستان کی بگڑتی سکیورٹی اور علاقائی خطرات

متعلقہ مضامین

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا اخلاقی زوال بے نقاب کر دیا ہے، جہاں بھارتی فنڈنگ کے عوض معصوم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

May 30, 2026

بلوچ خاتون نے ویڈیو بیان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے معصوموں پر ظلم کو بزدلی قرار دیا ہے اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

May 30, 2026

بھارت نے سفارتی ذمہ داریوں کی معطلی کے دوران دریائے چناب پر نئے پن بجلی منصوبے کی یکطرفہ منظوری دے دی ہے۔ اضافی سرنگوں اور ذخیرہ جاتی ڈھانچوں پر مبنی یہ توسیعی اقدام پاکستان کے آبی و زرعی تحفظ کے لیے ایک منظم تزویراتی خطرہ ہے۔

May 30, 2026

بھارتی آرمی چیف نے مئی 2025 کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر آپریشن سندور 2.0 کی دھمکی دی ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت داخلی سیاسی فائدے کے لیے خطے کا امن داؤ پر لگا رہی ہے، جبکہ پاکستان سفارتی برتری اور دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔

May 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *