اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اب بھی برقرار ہے اور اس کے طالبان حکومت کے ساتھ روابط ختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی افغانستان سے سرگرم اہم دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الیگزینڈر زویف نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کی جانب سے القاعدہ سے تعلقات منقطع کرنے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں اب بھی سرگرم ہیں، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
داعش خراسان بھی سرگرم
اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کے مطابق داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے کارروائیاں کرنے والے نمایاں دہشت گرد گروہوں میں شامل ہیں، جبکہ القاعدہ بھی ملک میں اپنی موجودگی اور روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
خدشات برقرار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تقریباً پانچ برس گزرنے کے باوجود افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی خدشات برقرار ہیں۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔