لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بھارت کے چندا ماموں یا جنتا ماموں؟

انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔
بھارت کے چندا ماموں یا جنتا ماموں؟

بھارت کے خلائی پروگرام کی سب سے بڑی طاقت ہمیشہ آئی ایس آر او کے سائنسدان رہے ہیں، مگر اب یہی ماہرین تیزی سے نجی خلائی سٹارٹ اپس کا رخ کر رہے ہیں۔ اصل سوال صرف ملازمت چھوڑنے کا نہیں بلکہ برین ڈرین یا نئی خلائی معیشت؟ کا ہے۔

July 18, 2026

انڈیا کا مشن چاند ۔۔ اب ان کے لیے بننے جارہا ہے ایک نیا امتحان ۔۔
کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ چھوڑ رہے ہیں خلائی سائنسدان۔۔

ارے ! یہ تو شعر بن گیا ۔۔

ایسے میں مجھے راحت اندوری کا ایک پھڑکتا ہوا شعر یاد آگیا ۔۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے!

چلیں سیدھا مدعے پر آتے ہیں ۔۔

کیا فرماتے تھے مودی صاحب؟
پاکستان کو خطے میں اکیلا چھوڑ دیں گے؟
اب خود اکیلے ہونے جارہے ہیں ۔ غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ رہے ہیں ۔۔

خبر یہ ہے کہ انڈیا کا خلائی دماغ نجی کمپنیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

چونکہ بھارت کے خلائی پروگرام کی سب سے بڑی طاقت ہمیشہ آئی ایس آر او کے سائنسدان رہے ہیں، مگر اب یہی ماہرین تیزی سے نجی خلائی سٹارٹ اپس کا رخ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے اہم منصوبوں سے وابستہ سائنسدانوں کے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔

اصل سوال صرف ملازمت چھوڑنے کا نہیں بلکہ “برین ڈرین یا نئی خلائی معیشت؟” کا ہے۔

ایک طرف سابق چیئرمین جی مادھون نائر خبردار کرتے ہیں کہ اگر تجربہ کار سائنسدان مسلسل نجی کمپنیوں میں جاتے رہے تو آئی ایس آر او کی رفتار اور صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف سابق سیکریٹری پی جی دیواکر کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی فطری ہے، کیونکہ اب انڈیا کی خلائی صنعت صرف ایک سرکاری ادارے تک محدود نہیں رہی بلکہ سینکڑوں نجی کمپنیاں راکٹس، سیٹلائٹس اور خلائی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 میں نجی شعبے کے لیے دروازے کھولنے کے بعد انڈیا میں 399 خلائی سٹارٹ اپس سامنے آ چکے ہیں، جبکہ ملکی خلائی معیشت کا حجم 8.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

مختصراً، یہ مقابلہ آئی ایس آر او بمقابلہ سٹارٹ اپس نہیں بلکہ روایتی سرکاری ماڈل اور تیزی سے ابھرتی نجی خلائی معیشت کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔ اگر حکومت باصلاحیت سائنسدانوں کو برقرار رکھنے اور نجی شعبے کی ترقی میں توازن قائم کر لیتی ہے تو انڈیا کا خلائی شعبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے، لیکن اگر تجربہ کار افرادی قوت کا انخلا اسی رفتار سے جاری رہا تو اس کا اثر مستقبل کے بڑے خلائی منصوبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اب مودی سرکار کو سوچنا ہوگا ۔

اپنی جنتا کو ماموں بنانے سے بہتر ہے چندا کو ماما بنانے کے لیے اور وہاں تک جانے کے لیے اپنی دھرتی ماں کے خلائی سائنسدانوں کی بات سنیں اور ان کی بہتری کے لیے کچھ عملی اقدام کرے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *