ایرانی میڈیا نے صوبہ رضوی خراسان میں تعینات ایرانی بارڈر فورسز کے کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران–افغانستان سرحد پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے متعدد افغان شہری شدید سردی کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی، تاہم ان افراد کی لاشیں سرحدی گزرگاہ دوغارون کے ذریعے اسلامی امارتِ افغانستان کے حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ایرانی بارڈر فورسز کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ یہ افغان شہری شدید سرد موسم میں پہاڑی اور غیر رسمی راستوں سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے دوران وہ سخت موسمی حالات کا شکار ہو گئے۔
ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے مزید بتایا کہ اسی واقعے کے دوران کئی دیگر افغان مہاجرین کو بروقت کارروائی کے ذریعے شدید سردی سے بچا لیا گیا اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد کی حالت بھی خراب تھی اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
اس سے قبل افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے مقامی حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ایران–افغانستان سرحد پر شدید سردی کے باعث کم از کم تین افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم سرحدی علاقوں کی دشوار گزار صورتحال اور غیر رسمی راستوں کے استعمال کے باعث اصل ہلاکتوں کی تعداد کا تعین مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور بڑی تعداد میں افغان شہری روزگار اور بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ سرحدی علاقوں میں موسمِ سرما کے دوران درجہ حرارت میں شدید کمی، برفباری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ان غیر قانونی سفر کرنے والوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔
انسانی حقوق اور مہاجرین سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ قانونی اور محفوظ سرحدی گزرگاہوں تک محدود رسائی کے باعث افغان شہری انسانی اسمگلروں کے ذریعے خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے المناک واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔