دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔

January 13, 2026

قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات

January 13, 2026

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

January 13, 2026

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

January 13, 2026

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

کراچی میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی ناکام، کم عمر بلوچ طالبہ کو خود کش بمبار بننے سے بچالیا گیا

کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی ایک سنگین دہشت گردانہ سازش ناکام بنا دی، جس کے تحت ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی
کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی ایک سنگین دہشت گردانہ سازش ناکام بنا دی، جس کے تحت ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 25 دسمبر کی شب خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے بچی کو محفوظ طریقے سے تحویل میں لے کر ممکنہ حملے کو ناکام بنایا گیا

December 29, 2025

کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی سازش ناکام بنا دی ہے۔ اس سازش کے تحت ایک کم عمر بلوچ بچی کو خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 25 دسمبر کی شب ایک خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے بچی کو محفوظ طریقے سے تحویل میں لے کر ممکنہ حملے کو روکا گیا۔

کم عمر بچوں کو استعمال کرنے سازش

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شدت پسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے معصوم ذہنوں کو بہکا رہے تھے۔ متاثرہ بچی کو والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا اور اسے کراچی بھیجا گیا۔ تاہم پولیس ناکوں اور سخت چیکنگ کی وجہ سے ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکا اور سازش ناکام ہو گئی۔

بچی نے دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کیں، جس کے بعد والدین کو فوری طور پر طلب کیا گیا اور بچی کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ متاثرہ بچی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری کے طور پر پیش کرنے سے اس کے ذہن پر منفی اثر پڑا۔ اس نے کہا کہ بلوچ روایات خواتین اور بچیوں کی عزت کی تعلیم دیتی ہیں اور انہیں قربان کرنا بلوچ ثقافت کے منافی ہے۔

وزیرِ داخلہ سندھ کا مؤقف

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ خودکش حملہ نہ اسلام میں جائز ہے، نہ انسانیت میں اور نہ ہی بلوچ روایات میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسند عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور ریاست ہر ممکنہ اقدام کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بی ایل اے کی خواتین بھرتی کی حکمت عملی میں ایک ساختی تبدیلی کا حصہ ہے۔ 2022 میں کراچی یونیورسٹی بم دھماکے کے بعد بی ایل اے کے پروپیگنڈے نے خواتین حملہ آوروں کو نمایاں کیا اور انسٹاگرام، واٹس ایپ سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم یافتہ خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ شدت پسند گروہ خواتین کی بھرتی کے لیے آن لائن روابط، نظریاتی سرگرمیاں، جذباتیت پر مشتمل نعرے اور لٹریچر کا استعمال کرتے ہیں۔ اور پھر انہیں۔

ہینڈلر فرید عرف زاگرین سے تفتیش

خیال رہے کہ گرفتاری معروف ہینڈلر فرید عرف زاگرین کی تفتیش اور ایک سہولت کار کی حراست کے بعد عمل میں آئی۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق خواتین کی بھرتی اختیاری یا انکی مرضی سے نہیں بلکہ باقاعدہ ذہن سازی کرکے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں مشتبہ شخص نے اپنے بیان میں کہا کہ بھرتی کرنے والے اپنی بیٹیوں کو نہیں بھیجتے، جس سے اس عمل کی ذاتی مفاد پر مبنی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز، چینی انجینئرز، انفراسٹرکچر اور عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ 2022 کے بعد سے ان حملوں میں خودکش حملوں کا اضافہ ہوا ہے۔ ان سیلز کا خاتمہ قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور دہشت گردانہ مواد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

انسداد شدت پسندی کے لیے ڈیجیٹل نگرانی، کمیونٹی آگاہی، خواتین پر مرکوز روک تھام کے پروگرام اور شفاف قانونی عمل کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان خواتین کو خطرات سے بچایا جا سکے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات

متعلقہ مضامین

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔

January 13, 2026

قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات

January 13, 2026

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

January 13, 2026

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *