ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی پریس کانفرنس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور تنازع کا شکار ہو گئی جب بعض میڈیا نمائندوں نے پولیس افسر پر صحافیوں سے ناروا رویہ اختیار کرنے اور ملازمتوں سے نکلوانے کی کوشش کرنے کے سنگین الزامات عائد کر دیے۔ لائیو میڈیا بریفنگ کے دوران دونوں جانب سے سخت اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس سے ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔
نوکریوں سے نکلوانے کے الزامات
دورانِ پریس کانفرنس ایک صحافی نے اونچی آواز میں الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈی آئی جی آپریشنز انہیں ملازمت سے نکلوانے کے لیے ان کے ادارے کے دفتر گئے تھے۔ اس الزام پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے حلفاً انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی نوکری نہیں چھین رہے۔
صحافی کی جانب سے کلمہ طیبہ پڑھ کر الزام دہرایا گیا، جس پر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے میڈیا کو یہاں پریس کانفرنس کے لیے مدعو کیا ہے۔ صحافیوں نے یہ شکایت بھی کی کہ ڈی آئی جی آپریشنز ان کی کالز کا جواب نہیں دیتے اور ان کے بارے میں نامناسب ریمارکس دیتے ہیں۔ احتجاجاً صحافیوں نے پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی چائے پینے سے بھی انکار کر دیا۔
احتجاجی صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر دعوے
اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں پریس کانفرنس میں ہنگامہ کرنے والے صحافیوں کے خلاف سنگین جوابی دعوے سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لائیو کانفرنس کے دوران غیر معقول رویہ اختیار کرنے والے بیشتر صحافی مبینہ طور پر صحافت کی آڑ میں شیشہ کیفے، مساج پارلر، جوئے کے اڈے اور غیر قانونی گیسٹ ہاؤسز جیسے کاروبار چلانے میں ملوث ہیں۔ ان پوسٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ افراد من گھڑت خبروں کے ذریعے بلیک میلنگ بھی کرتے رہے ہیں۔
پولیس کارروائیاں او الزام
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے دعووں کے مطابق، لاہور پولیس اور خصوصاً ڈی آئی جی آپریشنز کافی عرصے سے ان مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے، جس کا بدلہ لینے کے لیے پریس کانفرنس کے دوران انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ان پوسٹس میں ڈی آئی جی آپریشنز کے پُرسکون انداز کو سراہا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جن صحافیوں کے نام اس تنازع کے حوالے سے سامنے لائے گئے ہیں ان میں احمد فراز، مجاہد شیخ، وسیم صابر، حماد اسلم، شیراز نثار، رمضان بیگ، بابر غوری اور یاسر شمعون شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ان سنگین الزامات کی اب تک کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی پولیس یا متعلقہ صحافیوں کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ موقف سامنے آیا ہے۔