افغان سرحد سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر صوبہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ پشاور میں پولیس کی جانب سے رواں سال سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پشاور میں مجموعی طور پر ایک ہزار 16 سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی، جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان آپریشنز کے دوران 731 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن سے تفتیشی عمل جاری ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کے دوران سکیورٹی فورسز نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ کارروائیوں کے دوران 846 ہتھیار اور 14 ہزار سے زائد گولیاں قبضے میں لی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پشاور میں منشیات کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 524 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان کارروائیوں میں 90 کلوگرام چرس، 91 کلوگرام آئس اور تقریباً 3 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی، جب کہ منشیات کے اڈوں پر چھاپوں کے دوران 95 بوتلیں شراب بھی ضبط کی گئیں۔
پولیس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار 596 افراد کو گرفتار کیا گیا، تاکہ غیر قانونی رہائش اور مشکوک سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، جب کہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات