ایرانی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے لاکھوں افغان مہاجرین کو طویل المدتی رہائشی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے جو ملک میں تیس سال سے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔ اس پالیسی کے تحت نہ صرف وہ مہاجرین شامل ہونگے جو عرصہ دراز سے ایران میں مقیم ہیں بلکہ ان کی دوسری اور تیسری نسل کے افراد بھی مستقل رہائش کے اہل ہوں گے۔
ایرانی پارلیمانی کمیٹی برائے داخلی امور کے رکن مرتضیٰ محمودی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پالیسی انسانی بنیادوں پر وضع کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا اطلاق صرف ان قانونی طور پر رجسٹرڈ مہاجرین پر ہوگا جن کا کوئی فوجداری یا سکیورٹی ریکارڈ نہیں ہے اور جنہوں نے ملک کے قوانین اور اخلاقی اقدار کا احترام برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے طویل عرصے سے مقیم افغان مہاجرین کو ملک کے سماجی اور اقتصادی شعبوں کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی اہمیت کو واضح کیا۔
پالیسی کے تناظر اور چیلنجز
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی پارلیمنٹ ‘نیشنل امیگریشن آرگنائزیشن بل’ پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد مہاجرین کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے عملی نفاذ کے بارے میں ابھی متعدد اہم سوالات اور غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاسی بیانات اور عملی قانونی ضمانتوں کے درمیان یہ خلا ایران میں افغان مہاجرین کی حیثیت کو غیر یقینی اور پیچیدہ بنا رہا ہے۔
Iran to grant long-term residency to Afghan refugeeshttps://t.co/gGSdUeDwze
— Ariana News (@ArianaNews_) January 1, 2026
Morteza Mahmoudi, a member of Iran’s parliamentary committee on internal affairs, announced that Afghan refugees with over 30 years of residence in Iran, along with their second and third-generation… pic.twitter.com/PUm8zssnLB
سرحدات پر انسانی المیہ
دیکھا جائے تو ایرانی حکومت طویل المدتی رہائش کا اعلان تو کر رہی ہے لیکن ایران اور افغان سرحد پر انسانی بحران اپنی انتہاء پر ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں شدید سرد موسم میں غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران تقریباً 40 افغان مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہرات صوبے کے حکام نے کم از کم 15 لاشوں کی واپسی کی تصدیق کی ہے جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جس سے خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایرانی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2023 میں ہی 1.6 ملین سے زائد افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی کنٹرولز میں سختیوں کے باعث مہاجرین کی افغانستان منتقلی کی شرح میں نمایاں تیزی آئی ہے، جو ایرانی حکومت کی پالیسیوں میں ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
انسانیت اور سیکورٹی کے درمیان توازن
بین الاقوامی اور مقامی حقوق انسانی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ہونے انخلاء سرد موسم، پُر خطر حالات اور محدود قانونی راستوں نے مہاجرین کے لیے صورت حال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ ان تنظیمیوں کا کہنا ہے کہ یہ عوامل مل کر سرحدی راستوں کو خطرات میں بدل رہے ہیں، جس سے سنگین انسانی اور قانونی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک انسانی حقوق کارکن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب طویل المدتی رہائش کا اعلان ہے، جو بظاہر ُامید کی کرن ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بڑے پیمانے پر انخلاء جاری ہے۔ یہ متضاد پالیسیاں مہاجرین کو قانونی عدم تحفظ کا شکار بنا رہی ہیں اور ان کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔
دیکھیں: پاکستان اور تاجکستان کے درمیان میٹ ایکسپورٹ میں نمایاں پیش رفت