"> طالبان کی عالمی برادری پر سخت تنقید: اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی نہ دینے کو "سیاسی تعصب" قرار دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کی عالمی برادری پر سخت تنقید: اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی نہ دینے کو “سیاسی تعصب” قرار دیا

طالبان حکومت کے اعلیٰ سفارتکار سہیل شاہین نے نئے سال کی شروعات میں اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ افغانستان کی حقیقی حکومت کو تسلیم نہ کر کے سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے
طالبان حکومت کے اعلیٰ سفارتکار سہیل شاہین نے نئے سال کی شروعات میں اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ افغانستان کی حقیقی حکومت کو تسلیم نہ کر کے سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے

سہیل شاہین نے سوال اٹھایا کہ اقوامِ متحدہ کا یہ رویہ افغان عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ امارتِ اسلامی افغانستان پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے، لیکن عالمی برادری کی نظر میں وہ 'قابل قبول نمائندہ' نہیں

January 3, 2026

طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے نئے سال کی ابتداء میں ہی اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کی ہے۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے دوحہ میں موجودہ ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ افغانستان کی حقیقی حکومت کو تسلیم نہ کر کے سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی اور قانونی حقیقت ہے کہ افغانستان پر مکمل کنٹرول امارتِ اسلامی کا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟

عوام کو نقصان، عالمی برادری کو فائدہ؟

طالبان سفیر نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ کیا اقوامِ متحدہ کا یہ رویہ عام افغان شہریوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں۔ “اقوام متحدہ کے جمود کی وجہ سے ہمارا ملک عالمی فورم پر اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا، نہ ہی بین الاقوامی امداد تک ہماری مناسب رسائی ہے۔ اس کا خمیازہ غریب افغان عوام بھگت رہے ہیں، سہیل شاہین نے کہا کہ وہ ‘حقیقی نمائندے’ جو دنیا کی نظر میں ‘قابل قبول’ نہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ سہیل شاہین خود کو افغانستان کا “حقیقی نمائندہ” کہتے ہیں لیکن دنیا کے زیادہ تر ممالک ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ملکوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین کے حقوق کا خیال نہیں رکھا۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی اور حکومت میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونا بھی بین الاقوامی تحفظات کی بڑی وجوہات ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان معاشی مشکلات اور قدرتی آفات سے دوچار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک طالبان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوتا، افغان طالبان دہشت گرد گروہ بالخصوص ٹی ٹی پی کے خلاد عملی اقدامات نہین کرتے اس وقت تک افغان عوام کے مسائل حل ہونے مشکل ہیں۔

دیکھیں: ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *