بھارت کی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والی 48 سالہ سکھ خاتون سرابجیت کور، جو نومبر 2025 میں ننکانہ صاحب یاترا کے بہانے پاکستان آئی تھیں، تاحال وطن واپس نہیں جا سکیں۔ سرابجیت کور نے بعد ازاں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی ہے، اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ مذکورہ شخص کو گزشتہ نو برس سے ٹک ٹاک کے ذریعے جانتی تھیں۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق سرابجیت کور اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے خلاف ڈی پورٹیشن کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں واپس بھارت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے سکھ برادری کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور تحفظ کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ سرابجیت کور کے معاملے نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پاکستان میں قیام اور شادی کا اعلان کرنے کے باوجود انہیں حراست میں لے کر ملک بدری کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی اور سرحد پار تعلقات سے متعلق بیانیے عملی سطح پر پیچیدہ قانونی اور سکیورٹی حقائق سے ٹکرا جاتے ہیں۔ سرابجیت کور کا کیس نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تعلقات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مذہبی، سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار