ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

June 2, 2026

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

June 2, 2026

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

June 2, 2026

پاکستان آنے والی بھارتی سکھ خاتون سرابجیت کور کو حراست میں لے لیا گیا، ڈی پورٹیشن کی تیاری

سرابجیت کور اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے خلاف ڈی پورٹیشن کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں واپس بھارت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔
پاکستان آنے والی بھارتی سکھ خاتون سرابجیت کور کو حراست میں لے لیا گیا، ڈی پورٹیشن کی تیاری

سرابجیت کور کا کیس نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تعلقات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مذہبی، سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

January 5, 2026

بھارت کی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والی 48 سالہ سکھ خاتون سرابجیت کور، جو نومبر 2025 میں ننکانہ صاحب یاترا کے بہانے پاکستان آئی تھیں، تاحال وطن واپس نہیں جا سکیں۔ سرابجیت کور نے بعد ازاں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی ہے، اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ مذکورہ شخص کو گزشتہ نو برس سے ٹک ٹاک کے ذریعے جانتی تھیں۔

تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق سرابجیت کور اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے خلاف ڈی پورٹیشن کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں واپس بھارت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے سکھ برادری کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور تحفظ کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ سرابجیت کور کے معاملے نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پاکستان میں قیام اور شادی کا اعلان کرنے کے باوجود انہیں حراست میں لے کر ملک بدری کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی اور سرحد پار تعلقات سے متعلق بیانیے عملی سطح پر پیچیدہ قانونی اور سکیورٹی حقائق سے ٹکرا جاتے ہیں۔ سرابجیت کور کا کیس نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تعلقات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مذہبی، سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

June 2, 2026

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

June 2, 2026

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *