"> پاکستان آنے والی بھارتی سکھ خاتون سرابجیت کور کو حراست میں لے لیا گیا، ڈی پورٹیشن کی تیاری - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان آنے والی بھارتی سکھ خاتون سرابجیت کور کو حراست میں لے لیا گیا، ڈی پورٹیشن کی تیاری

سرابجیت کور اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے خلاف ڈی پورٹیشن کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں واپس بھارت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔
پاکستان آنے والی بھارتی سکھ خاتون سرابجیت کور کو حراست میں لے لیا گیا، ڈی پورٹیشن کی تیاری

سرابجیت کور کا کیس نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تعلقات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مذہبی، سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

January 5, 2026

بھارت کی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والی 48 سالہ سکھ خاتون سرابجیت کور، جو نومبر 2025 میں ننکانہ صاحب یاترا کے بہانے پاکستان آئی تھیں، تاحال وطن واپس نہیں جا سکیں۔ سرابجیت کور نے بعد ازاں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی ہے، اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ مذکورہ شخص کو گزشتہ نو برس سے ٹک ٹاک کے ذریعے جانتی تھیں۔

تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق سرابجیت کور اس وقت پاکستانی انٹیلی جنس اور مقامی پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے خلاف ڈی پورٹیشن کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں واپس بھارت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے سکھ برادری کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور تحفظ کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ سرابجیت کور کے معاملے نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پاکستان میں قیام اور شادی کا اعلان کرنے کے باوجود انہیں حراست میں لے کر ملک بدری کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی اور سرحد پار تعلقات سے متعلق بیانیے عملی سطح پر پیچیدہ قانونی اور سکیورٹی حقائق سے ٹکرا جاتے ہیں۔ سرابجیت کور کا کیس نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تعلقات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مذہبی، سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *